بچہ کی ولادت کے وقت اس کے کان میں اذان وغیرہ دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ عام طور پر لوگ بھول جاتے ہیں اور اس میں کوتاہی کرتے ہیں، براہِ کرم بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
بچہ کی ولادت کے بعد اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مسنون عمل ہے اور حضور ﷺ سے ثابت ہے اس میں کوتاہی کرنا اور بھول جانا خلافِ سنت اور ناپسندیدہ عمل ہے اور یہ اذان ولادت کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو دینی چاہیے۔
ففي مشکاۃ المصابیح: عن أبي رافع قال: رأيت رسول الله ۔ صلى الله عليه وسلم ۔ أذن في أذن الحسن ابن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة. رواه الترمذي وأبو داود. وقال الترمذي: هذا حيث حسن صحيح اھ (ص:۳۶۳)۔
وفي مرقاۃ المفاتیح: (بالصلاة) . أي بأذانها وهو متعلق بأذن، والمعنى أذن بمثل أذان الصلاة وهذا يدل على سنية الأذان في أذن المولود وفي شرح السنة: روي أن عمر بن عبد العزيز - رضي الله عنه - كان يؤذن في اليمنى ويقيم في اليسرى إذا ولد الصبي. قلت: قد جاء في مسند أبي يعلى الموصلي، عن الحسين - رضي الله عنه - مرفوعا: «من ولد له ولد فأذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان» اھ (۷/۷۵۰)۔ واللہ اعلم بالصواب
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0