محترم !میرا سوال یہ ہے کہ نیا بچہ جو دنیا میں آتا ہے ، اس کے کان میں جو اذان دی جاتی ہے، وہ کس طرح پڑھی جاتی ہےاور یہ کہ کیا یہ اذان کوئی چودہ پندرہ سال تک کا لڑکا دے سکتا ہے؟ براه مہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں ۔
بچہ کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا مستحب ہے اور اس کے الفاظ وہی ہیں جو اذان اور اقامت میں کہے جاتے ہیں۔
جبکہ چودہ، پندرہ سال کے لڑکے کے اذان دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. اھ (1/ 385)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: ويندب الأذان لأمور غير الصلاة: منها الأذان في أذُن المولود اليمنى عند ولادته، كما تندب الإقامة في اليسرى لأنه صلّى الله عليه وسلم ْذَّن في أذ ُن الحسن حين ولدته فاطمة. اھ (1/ 635)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0