میرے آپ سے دو سوال ہیں :
لڑکا اور لڑکی کتنی عمر میں بالغ ہوتے ہیں ؟
(۲) آج کل لڑکیوں کو بہت جلد بلوغت ( مینسس) کا اثر ہو جاتا ہے، تو کیا اس صورت میں جب تک وہ اپنی اصل عمرِ بلوغت تک نہیں پہنچتیں تو تب تک وہ روزہ نہ رکھے یا اس پر عمر بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی روزہ فرض ہو جاتا ہے ؟ مثلا اگر لڑکی کی عمر بلوغت تیرہ (۱۳) سال ہے ، اور اس کو مینسس دس سال کی عمر میں آگئے تو کیا دس سال کی عمرمیں ہی لڑکی پر روزہ فرض ہو جائیگا یا جب تک وہ تیرہ سال کی نہیں ہو جاتی تب تک روزہ نہ رکھے ؟
واضح ہو کہ لڑکے کے بالغ ہونے کے لئے کم سے کم عمر12سال اور لڑکی کے لئے 9 سال ہے ، اگر اس عمر کے بعد لڑکے یا لڑکی کی بلوغت کی علامات (احتلام ، حیض کا آنا وغیرہ ) میں سے کوئی علامت پائی گئی تو وہ بالغ شمار ہونگے ،اس پر تمام احکام (نماز ، روزہ وغیرہ ) لاگو ہوں گے ، جبکہ 15 سال کی عمر دونوں کے لئے بلوغت کی آخری حد ہے، اس کے بعد ان پر بالغوں کے احکام جاری ہوں گے اگرچہ مذکورہ بالا علامات میں سے کوئی علامت نہ بھی پائی جائے ۔
كما في الهداية شرح البداية: قال بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال إذا وطىء فإن لم يوجد ذلك فحتى يتم له ثماني عشرة سنة وبلوغ الجارية بالحيض والاحتلام والحبل اھ (3/ 284)۔
و في الدر المختار: (بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) (6/ 153)۔
وهكذا في الدر المختار: (وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين) هو المختار كما في أحكام الصغار (6/ 154)۔
و في الفتاوى الهندية: شرط وجوبه الإسلام والعقل والبلوغ اھ (1/ 195)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0