سنا ہے کہ جو بچے پیدا ہو کر مر جاتے ہیں یا جو چار ماہ کے حمل کے بعد مر جائیں وہ اپنے والدین کو جنت میں لے کر جائیں گے، کیا اس کے بارے میں کوئی قرآن وحدیث سے ارشاد ہے؟
جی ہاں! اس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ موجود ہیں جن کے بچے فوت ہوئے اور ان بچوں کے والدین نے اس صدمہ پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ سے اجر کے متمنی رہے اللہ تعالیٰ ان کو اس صدمہ پر صبر کرنے کا صہے میں جنت میں داخل فرمائیں گے۔
کما فی الترغیب والترھیب: عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ: مامن مسلم یموت لہ ثلاثۃ لم یبلغوا الحنث إلا ادخلہ اللہ الجنۃ بفضل رحمتہ ایاھم (رواہ البخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ)
وفی روایۃ للنسائی: ان رسول اللہﷺ قال من احتسب ثلاثۃ من صلبہ دخل الجنۃ فقامت امرأۃ فقالت أو اثنان؟ فقال أو اثنان قالت المرأۃ یالیتنی قلت واحدۃ.
وفی ھامشہ: المعنی کل مسلم توفیت لہ ثلاثۃ صغار فصبر وطلب العوض من اللہ تعالٰی وانتظر الأجر منہ تفضل اللہ علیہ ازاء صبرہ بدخول الجنۃ (۳/ ۷۴، ۷۵) واللہ اعلم بالصواب.
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0