میرا سوال مغربی رسم ، یعنی بچے کی پیدائش سے پہلے بچہ کو نہلانے سے متعلق ہے ، اس میں مسلمان اور غیر مسلمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے ، کہ وہ ہونے والی ماں اور بچہ کے لیے تحائف لائیں ، میں اپنی بیوی کو بتاتا ہوں کہ اس رسم کا قرآن و سنت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، اس لیے اس سے بچیں ، آپ کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں بچہ کی ولادت سے قبل اس قسم کی رسم کا ثبوت نہیں ، یہ کفار و مشرکین کی تقلیدِ محض ہے جس سے مسلمانوں کو احتراز لازم ہے۔
ففي تفسير الخازن : قال ابن عباس : إن النصارى إذا ولد لأحدهم مولود و أتى عليه سبعة أيام غمسوه في ماء لهم أصفر يسمونه ماء المعمودية و صبغوه به ليطهروه به مكان الختان , فإذا فعلوا ذلك به قالوا الآن صار نصرانياً حقاً , فأخبر الله أن دينه الإسلام لا ما تفعله النصارى ) و من أحسن من الله صبغة (أي ديناً و قيل تطهيراً لأنه يطهر من أوساخ الكفر) و نحن له عابدون ( أي مطيعون)اھ(1/ 116)۔
و فی مرقاة المفاتیح : (وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس و غيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف و الصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم و الخيراھ (7/2782)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0