میری بیوی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر چلی گئی اور اسکے والدین مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہے تھے اور بضد تھے میں نے اپنی مسجد کے امام صاحب کے مشورہ سے شرعی طور پر اس کو ایک طلاق دیدی , میرا ایک بیٹا ہے ۳ سال ۴ ماہ کا , اب وہ میرے بیٹے سے ملنے نہیں دے رہے
اب تک میں بچے کا اور اسکی ماں کا سارا خرچ خود اٹھا رہا تھا
براے مہربانی آپ شریعت کی رو سے میری رہنمائی فرمائیے
۱۔ ماں اسکو کتنے سال تک اپنے پاس رکھ سکتی ہے ؟
۲۔اور میں اپنے بیٹے سے کس طرح مل سکتا ہوں ؟
٣- میں اپنے بیٹے کی تعلیم اور تربیت اور اسکے سب اخراجات اپنی حیثیت کے مطابق خود اپنے ذمہ رکھنا چاہتا ہوں-
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی یا اس کے سسرال والوں کا سائل کو اپنے بیٹے سے ملنے نہ دینا شرعاً درست نہیں،بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہے ہیں،ان کو اپنے اس طرزِ عمل سے اجتناب لازم ہے،جبکہ طلاق کے بعد بیٹے کی عمر سات سال ہونے تک بچہ کی ماں اس کی پرورش کی سب سے زیادہ حقدار ہے بشرطیکہ وہ اس دوران بچے کے کسی غیر محرم سے نکاح نہ کرے،سات کی عمر کے بعد والد بچہ کو شرعی اور قانونی طور پر لے سکتاہے،تاہم اس دوران بچے کی پرورش پر آنے والے تمام اخراجات سائل یعنی والد کے ذمہ لازم ہوں گے-
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0