میرے دوست کا بیٹا 19 سال کا ہے، وہ اپنے والدین کے ساتھ امریکا میں رہتا ہے ، اس کے والدین نے اس کو ہر چیز بشمول گاڑی اور تمام بیرونی اخراجات مہیا کی ہیں، وہ آخری سمسٹر میں کالج بھی نہیں جاتا رہا، اور تمام کورسز بھی چھوڑ دیے ،والدین کو بتائے بغیر Four Year University میں ، میرا دوست یہ جاننا چاہتا ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس کو اپنے مذکور بیٹے کے ساتھ کیسا رویّہ اختیار کرنا چاہیئے ؟ جبکہ اس کو اپنے بیٹے سے درجِ ذیل شکایات ہیں:
۱:اس کے تمام گھر والوں نے مل کر گھر کے اندر ایک مذہبی مجلس منعقد کی، لیکن مذکور بیٹے نے اس مجلس میں شرکت کرنے سے انکار کیا ، مجلس کے دوران اس نے قرآن و حدیث سے متعلق بُری باتیں بھی کیں ، جبکہ اس کے خاندان والے سب اچھے مسلمان ہیں، اور اپنے ارد گرد کے بہت سے لوگوں کی مدد کرنے کو پسند کرتے ہیں ،لیکن وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ لوگ اس کو زبردستی (گھر) سے نکال دیں تو یہ گناہ ہوگا۔
۲: معمولی سی زحمت پہنچنے پر وہ کہتا ہے کہ میں یہودی بن جاؤنگا " یا " میں عیسائی بن جاؤنگا ۔
3: وہ گھر کے اندر مختصر لباس (نیکر) پہنتا ہے ،اور شلوار یا دوسرے گھر والوں کی طرح دوسرے کپڑے نہیں پہنتا۔
4 :وہ کھڑے ہو کر پیشاب کرتا ہے، یہاں تک کہ بارہا بتانے کے باوجود بھی اس کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
5 : وہ اپنے بھائیوں سے حسد رکھتا ہے، اور ان کو ایذاء (نقصان) پہنچانے کی طاق میں رہتا ہے۔
۶:وہ اپنے والدین اور دیگر اقرباء چھوٹے بڑوں کا احترام بالکل بھی نہیں کرتا۔
۷:وہ اپنے والدین کوکہتا ہے کہ "میں تمہاری جسمانی اور ذہنی سکون حاصل کرنے کا نتیجہ ہوں" اور (جیسے) " تمہیں مچھلی کی خواہش تھی پس تم نے اس کا لطف اٹھایا اور دیگر اس طرح کی بہت ساری بازاری ناقابل برداشت باتیں والدین سے کہتا ہے۔
۸:وہ فقط جمعہ کی نمازیں پڑھتا ہوا مسجد میں نظر آتا ہے بس۔
۹: وہ کسی قسم کے نفسیاتی علاج اور صلاح کاری کو بھی قبول کرنے سے انکا ری ہے، اس نے پہلی مرتبہ کی تشخیص کے لئے جانے سے بھی ان کا ر کیا ۔ مذکورہ بالا تمام باتیں وہی ہیں جو میرے دوست نے مجھے بتائی ہیں، برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں راہ نمائی کیجیے۔
سائل کے دوست کے بیٹے کا رویّہ انتہائی نا مناسب اور غلط طرزِ عمل پر مبنی ہے، اس پر لازم ہے کہ مذکور رویّہ کو قطعاً ترک کرے اور اپنی اخروی زندگی کی فکر کرے ۔ تا ہم اس کے والدین کو بھی چاہیئے کہ اپنے بیٹے کو خود حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے اور غلط دوستوں کی صحبت سے جتنا ممکن ہو سکے، دور رکھنے کی کوشش کریں، اور اگر ممکن ہو تو انہیں دینی مجالس اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے پر آمادہ کرتے رہا کریں، امید ہے کہ وہ اس غلط طرزِ عمل سے باز آجائے گا ۔ بصورتِ دیگر اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے اور اس کے مذکور طرزِ عمل سے گھر کے دینی ماحول پر اثر پڑ رہا ہو، والدین اور دیگر اقرباء کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہو تو اس کے ساتھ قطعِ تعلقی کی بھی گنجائش ہے ۔
ففى مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي؟ قال: «أمك» . قال: ثم من؟ قال: «أمك» . قال: ثم من؟ قال «أمك» . قال: ثم من؟ قال: «أبوك» . و في رواية قال: «أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك أدناك» . متفق عليه اھ (3/ 1376)۔
وفيها أيضاً : وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحب لله وأبغض لله [ص:17] وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان» . رواه أبو داؤد (1/ 16)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0