السلام علیکم مفتی صاحب! میری کزن کا ایک بیٹا ہے۔ بیٹا پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے شوہر نے اسے گھر سے نکال دیا تھا اور بیٹا پیدا ہونے کے دو تین ماہ بعد اسے طلاق دے دی۔ اب چار سال ہو گئے ہیں، نہ کبھی رابطہ ہوا اور نہ ہی وہ کبھی ملنے آیا۔ اب اسکول اور باقی دستاویزات میں باپ کے نام کی جگہ کیا اس کا (والد کا) نام ہی رہے گا یا نانا ابو اپنی ولدیت دے سکتے ہیں؟ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔"
صورتِ مسئولہ میں کزن کے شوہر کے طلاق دینے اور بیوی سے رابطہ نہ کرنے کی بنا پر دستاویزات میں حقیقی والد کی جگہ ولدیت میں کسی اور کا نام لکھنا از روئے قرآن و سنت سخت ممنوع اور حرام ہے، اس لیے بہر صورت حقیقی والد کی طرف ہی نسبت اور انہی کا نام لکھنے کا اہتمام لازم ہے، البتہ ولدیت کے خانے میں بطورِ سرپرست نانا کا نام لکھنے میں حرج نہیں۔
كماقال الله تعالى في القرآن المجيد:ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ(سورة الاحزاب:٥)
وفي صحيح البخارى: عن أبي ذر رضي الله عنه:أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم نسب، فليتبوأ معقده من النار).(كتاب المناقب، باب: نسبة اليمن إلى إسماعيل،ج:٢،ص:٢،مط:البشرى)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0