کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھ سے زبردستی طلاق نامہ پر دستخط لئے اور طلاق نامہ میں اپنی مرضی کا مضمون لکھا،اس نکاح سے میرے دو بچے ہیں ،ایک بیٹی جس کی عمر تیرہ سال اور بیٹا جس کی عمر دس سال ہے ، طلاق نامہ میں انہوں نے بچے اپنے پاس رکھنے کا لکھوالیا ، اب کیا میں اپنے بچے لے سکتا ہوں یا نہیں اور بچوں سے ملاقات کرسکتا ہوں یا نہیں ؟ رہنمائی فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔
نوٹ:طلاق نامہ منسلک ہے۔
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجانے کے بعد لڑکی کی عمر نو(9) سال اور لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک ان کی پرورش کا حق ان کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے اور مذکورمدت پوری ہونے کے بعد ان کے بالغ ہونے تک والد کو انہیں اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے ،لہذا سائل کے بیٹے کی عمر چونکہ سات سال اور بیٹی کی عمر نو سال سے زیادہ ہوچکی ہے ، اس لئے شرعاً سائل ان کے بالغ ہونے تک انہیں اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے ، البتہ بلوغت کے بعد اگر والد سے علیحدہ رہنے کی صورت میں ان کے فتنہ وفساد میں مبتلاء یا ان کی عزت وآبرو کے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بچے والدہ کے پاس رہ سکتے ہیں ، سائل کے لئے انہیں اپنے پاس رکھنے پر مجبور کرنے کا حق حاصل نہ ہوگا،تاہم بچے جس کے پاس بھی رہے دوسرے فریق کو ان سے ملاقات کاحق حاصل ہوگا۔
کما فی الدرالمختار : (ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ. أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنيۃ وأفاده بقوله ( بلغت الجارية مبلغ النساء إن بكرا ضمھا الأب إلى نفسه ) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأى فتسكن حيث أحبت حيث لاخوف عليها ( إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسھا ) فالأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء بحر عن الظھيرية،والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس الأب ضمه إلى نفسه ) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة أو عار،وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر۔(568/3)۔
وفی الشامیہ:حاصل ما ذكره في الولد إذا بلغ أنه إما أن يكون بكرًا مسنةً أو ثيبًا مأمونةً، أو غلامًا كذلك فله الخيار وإما أن يكون بكرًا شابةً، أو يكون ثيبًا، أو غلامًا غير مأمونين فلا خيار لهم بل يضمهم الأب إليه."(3/569)۔
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0