میں نےاپنے شوہر سے عدالت کے ذریعے خلع حاصل کرلی ہے اور بچہ جس کی عمر ابھی صرف پانچ سال ہے اسے بھی اپنے ہی پاس رکھا ہے ،جب کہ میرے شوہر نے بچہ کو اپنےپاس رکھنے کیلئے عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے بچہ مجھے سونپ دیا ،ہمارے باہمی جھگڑے کے وقت سے لیکر خلع کا فیصلہ ہونے تک میں نے بچے کو اس کے باپ سے ایک یا دوبار ملنے کے علاوہ کبھی نہیں ملوایا اور نہ ہی کبھی ٹیلی فون کے ذریعے بات کروائی،جب کہ ہر خوشی کے موقع پر اور ہر سال بچے کی پیدائش کے دن ،بچے کا باپ تحفے تحائف بھیجتا رہا ہے اور ہر ماہ باقاعدگی سے خرچ بھی بھیجتا ہے ،کیا خلع لینے کے بعد بچے کے تربیتی معاملات میں مداخلت کرنے کے حوالے سےباپ کے حقوق برقرار رہتے ہیں یا نہیں ؟اور کیا بچے کی تعلیم کے حوالےسے بچے کا باپ کوئی فیصلہ لے سکتا ہے یا نہیں؟
اس سوال کےساتھ جمع کردہ دوسرے سوال کے جواب( فتویٰ نمبر :62677) میں ذکردہ تفصیل کے مطابق چونکہ عدالتی خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائلہ اور اس کے شوہر کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ حسب سابق برقرار ہے،بالفرض اگر میاں بیوی میں طلاق اور خلع کی وجہ سےباقاعدہ علیحدگی بھی ہوجائے تب بھی اس علیحدگی کی وجہ سے والد کا اپنے بچے سے تعلق اور رشتہ ختم نہیں ہوتا بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے،البتہ لڑکے کی سات سال عمر ہونے تک بچے کی ماں کو فقط بچے کی پرورش کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، اور اس عرصہ میں بھی حسب منشاء والد کو اپنےبچے کےتعلیمی معاملات میں رائے دہی اور اس سے ملنے کا مکمل حق حاصل ہوتاہےکہ وہ جب چاہے اپنے بچے سے مل سکتا ہے ،بلکہ والد اور اس کا بچہ اگر ایک ہی شہر میں رہائش پذیر ہوں تو دن کے وقت وہ اپنے بچے کو اپنے گھر بھی لاسکتا ہے اس سلسلہ میں بچے کی ماں (سائلہ) یا کسی اور کا رکاوٹ بننا اور اسے بچے سے ملنے نہ دینا شرعاً واخلاقاً غلط اور باپ بیٹےکے درمیان قطع رحمی کا سبب بننے کی وجہ سے ناجائز وگناہ کبیرہ ہے، اس لئے سائلہ کیلئے قطع رحمی پر مشتمل اس غیر شرعی طرز عمل سے اجتناب لازم ہے،ورنہ شوہر کوقانونی طور پر چارہ جوئی کے ذریعے بھی سائلہ کو اس کے غیر شرعی عمل سے روکنے کا اختیار حاصل ہوگا،جبکہ سات سال کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اگر والد بچے کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے،چنانچہ اس وقت والدہ کا اس میں رکاوٹ بننا جائزنہ ہوگا ۔
کما فی الدر المختار:(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب اھ (3/ 566)
وفی الفتاوى الهندية: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي اھ (1/ 541)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0