السلام علیکم ورحمۃ اللہ ورکاتہ! محترم مفتی صاحب! میں سائنسی علوم کا معلم ہوں، جبکہ ماسٹر اسلامیات میں کی ہے، سوال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں میں نے اپنی نومولود بھتیجی کے دائیں کان میں قبلہ رخ ہو کر اذان اور بائیں کان میں اقامت دي ، میں چونکہ سنت رسول ﷺ داڑھی منڈواتا ہوں، (اللہ تعالیٰ مجھے دین پر چلنے کی توفیق دیں) اب کچھ حضرات کہتے ہیں کہ تمہارا اذان دینا درست نہیں ہے اسے لُٹانا چاہیے، کیا واقعی یہ کان میں اذان دینا لٹائے ؟
واضح ہو کہ افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ بچہ بچی کے کان میں اذان اور اقامت کوئی متقی اور باشرع شخص کہے،لیکن اگر بغیر داڑھی والے شخص نے بچہ بچی کے کان میں اذان دے دی تو یہ بھی درست ہے، اب اس کا لوٹانا ضروری نہیں۔
ففي كما في مسند أحمد: عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه قال: «رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن يوم ولدته بالصلاة» اھ (45/ 171)
وفي مسند أبي يعلى: عن طلحة بن عبيد الله، عن حسين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له فأذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان» اھ (12/ 150)
وفي الفتاوى الهندية: وبكره أذان الفاسق ولا يعاد هكذا في الذخيرة (1/54)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0