میرا رشتہ دار تھا، وہ سپیر پارٹس کا کاروبار کرتا تھا، میں نے اس کو بطور مضاربت کچھ رقم دیدی جو مجھے نصف کے حساب سے منافع دیتا رہا، سلسلہ کچھ عرصہ تک چلتا رہا، پھر میرے دوست احباب بھی ایک کاروبار سے باخبر ہوئے ،وہ ابھی مجھے پیسے دینا چاہتے تھے ، ابتداء میں تو میں نے نہیں لیے، لیکن ان کے پورے اصرار سے رقم ان سے لے لی بطور مضاربت اور ان کو بتایا کہ کام میں خود نہیں کرتا، بلکہ میرا رشتہ دار کام کرتا ہے، تو میں نے ان دوست و احباب سے جو رقم بطور مضاربت لی ،تو جو منافع میرا رشتہ دار مجھے دیتا اس کو میں ثلث یا نصف کے حساب سے رب المال کو دے دیتا،میں نے جن احباب سے رقم لی، ان کے ساتھ مندرجہ ذیل معاہدہ کے تحت ایگریمنٹ ہوا تھا جو لف ہے ۔
۱: فریق اول کا مال اور فریق ثانی کی محنت ہے۔۲:مضاربت میں فریق ثانی امین ہوتا ہے, مال اس کے پاس امانت ہے ,جس کا حکم یہ ہے اگر فریق ثانی کی کوتاہی اور لاپرواہی سے سرمایہ ضائع ہو جائے، تو فریق ثانی ذمہ دار ہوگا، لیکن اگر فریق ثانی کی زیادتی یا کوتاہی کے بغیر سرمایہ ضائع ہو جائے تو فریق ثانی ذمہ دارنہ ہوگا۔۳: اگر خدا نخواستہ مضاربت میں کوئی نقصان ہو جائے تو جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کے دوران جتنا بھی نفع ہوا ہے اس کو واپس لٹا کر نقصان پورا کردیا جائیگا۔ وان كانا يقتسمان الربح والمضاربة بحالهاثم هلك المال بعضه أو كله تراد الربح حتى يستوفي رب المال رأس المال .۴:یہ معاہدہ ایک سال کی مدت کے لیے ہے، اور ایک سال کے بعد معاہدہ کی تجد ید اس وقت کے صورت الحال کے مطابق ہوگی۔۵:مجھے رأس المال استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا کہ اس میں سے جتنا چاہوں استعمال کروں ۔۶: مجھے رأس المال کے استعمال سے جو منافع ملے، اس میں سے رب المال کو طے شدہ حصے کے مطابق ربع ملے گا۔
۷: رب المال اگر رأس المال نکلوانا چاہے تو دو مہینے پہلے اطلاع دینا ہوگا۔۸:میں نے تمام شرائط کو سمجھ لیا ہے اور مجھے تمام شرائط قبول ہے۔
دستخط رب المال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی سلسلہ تقریباً دو سال تک چلتا رہا، لیکن میں نے لوگوں سے جو رقم لی ہے ۱۰ ماہ ہو گئے ،اب تقریباً ۴ ماہ ہوئے ہیں کہ میں نے جس آدمی کو جو کہ میرا رشتہ دار تھا پیسے دیے تھے، وہ بھاگ گیا ہے۔ اور تمام پیسے اپنے ساتھ لے گیا ہے اور کوئی پتہ نہیں کہ کدھر چلا گیا ہے؟ تو جب سے یہ لا پتہ ہو گیا، میں نے تمام ارباب المال کو مطلع کر دیا کہ ایسا مسئلہ ہے ۔ تو وہ سب بہت پریشان ہوئے اور مجھے کہاں کہ آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائیگا۔ تو پوری تفصیل لکھنے کے بعد آپ صاحبان سے مندرجہ ذیل امور دریافت طلب ہیں ، تاکہ مسئلہ پورا واضح ہو جائے۔
۱:کیا ی میری طرف سے تعدی ہے کہ نہیں؟ ۲: اس صورت میں ضامن ہوں کہ نہیں؟ اگر ہوں تو کتنے رأس المال کا۔ ۳: جو رقم میں نے بطور نفع ان کو دیدی ہے اصل راس المال سے منہا ہوگا کہ نہیں؟۴: میں نے جس کو رقم دی یعنی میرا رشتہ دار ( مضارب) اس نے اگر مجھے میرا سرمایہ نہ لوٹایا تو میں ان کے ماں باپ وغیرہ سے وصول کر سکتا ہو کہ نہیں ؟
اگر سائل اس کے ساتھ اس سلسلہ میں معاون نہ ہو تو وہ اگر چہ متعدی نہیں، مگر صورتِ مسئولہ میں سائل کا مذکور رشتہ دار جو رقم لے کر بھاگ گیا ہے، وہ بلا شبہ تعدی کرنے والا ہے ،اس لئے مذکور رشتہ دار اگر آکر مال کی ادائیگی نہ کرے ،تو سائل اس کی جائیداد وغیرہ قبضہ میں لیکر اس سے اپنے دیے ہوئے مال کے بقدر وہ لینے کا حقدار ہے ،اور اس سلسلہ میں وہ ان کے والدین سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے، بشرط یہ کہ والدین بھی اس کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں یا اس کے ساتھ رہتے ہوں ورنہ سائل پر لازم ہے کہ اس کے والدین کے ساتھ زیادتی سے اجتناب کرے، ورنہ وہ عنداللہ ما خود و جوابدہ ہوگا۔
كما في الهداية شرح البداية: قال ولا يضارب إلا أن يأذن له رب المال أو يقول له اعمل برأيك (إلی قوله) وكذا الشركة والخلط بمال نفسه فيدخل تحت هذا القول اھ (3/ 203)
و فيها ايضا : ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه قبضه بأمر مالكه اھ (3/ 202)
وفيها ايضا: قال الوديعة أمانة في يد المودع إذا هلكت لم يضمنها لقوله عليه الصلاة والسلام ليس المستعير غير المغل ضمان ولا على المستودع غير المغل ضمان ولأن بالناس حاجة إلى الاستيداع فلو ضمناه يمتنع الناس عن قبول الودائع فتتعطل مصالحهم اھ (3/ 215)
وفي شرح المجلة : لا يجوز لأحد ان يأخذ مال احد بلا سبب شرعى اھ المادة 94 (۱/ ۲۶۴)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وجوزه الشافعي) قدمنا في كتاب الحجر: أن عدم الجواز كان في زمانهم، أما اليوم فالفتوى على الجواز (قوله وهو الأوسع) لتعينه طريقا لاستيفاء حقه فينتقل حقه من الصورة إلى المالية اھ (6/ 422)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0