کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک آفس میں جاب کرتا ہوں، آفس کی طرف سے مکان یا کار وغیرہ لینے کے لئے قرض کی سہولت موجود ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ملازمین کسی بینک سے اپنے نام پر قرض لیتا ہے، اور قرض کی ادائیگی کا شیڈول آفس میں جمع کرا دیتا ہے، ہر قسط اصل زر اور سود پر مشتمل ہوتی ہے، اصل زر ملازم خود ادا کرتا ہے، جبکہ سود آفس ادا کرتا ہے، کیا ملازمین کو اس طرح بینک سے قرض لینا جائز ہے، جبکہ اُسے سود بھی نہیں ادا کرنا؟
اس صورت میں بھی سودی لین کا گناہ ہوگا، اگرچہ سود دفتر ادا کرے۔لہذا اس سے بھی اجتناب لازم ہے -
ففی اعلاء السنن: عن فضالة بن عبید صاحب االنبیﷺ أنه قال: ’’کل قرض جر منفعة فھو وجه من وجوه الربا‘‘۔ اخرجه البیھقی (۴/ ۵۰۱) -
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1