میری وائف نے کورٹ سے جھوٹے الزامات لگا کر طلاق کا مقدمہ کیا، الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور میں نے طلاق اور خلع سے انکار کر دیا، کورٹ نے خلع کی ڈگری دیکر حق مہر واپس کر دینے کی صورت میں نکاح کے بندھن سے آزاد کر دیا۔ اب وہ لڑکی ایک سال گزر جانے کے باوجود حق مہر کی رقم ادا نہیں کر رہی اور اس نے ایک مفتی سے فتویٰ لیا ہے، کہ طلاق ہوگئی ہے اور حق مہر واپس کرنا لازمی نہیں۔ واضح رہے کہ خلوت بھی نہیں ہوئی اور وہ لڑکی دوسری شادی کر رہی ہے؟ اسلام کا کیا حکم ہے اس بارے میں ؟
جو صورت سوال میں درج ہے اگر واقعۃً بھی ایسے ہی ہوا ہے تو اس سے فریقین کا نکاح حسب سابق برقرار ہے۔ لڑکی کے دوسری جگہ شادی کرنے سے قبل پہلے والے شوہر سے با ضابطہ علیحدگی و طلاق و غیرہ لینا شرعا ضروری ہے۔ اور اگر واقعۃً اس کے خلاف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کے بعد دوبارہ حکمِ شرعی سے آگاہی ضروری ہے ۔
قال الله تعالى : {فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا } [البقرة: 229]
و في الهداية شرح البداية: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به لقوله تعالى { فلا جناح عليهما فيما افتدت به } فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال اھ (2/ 13) والله اعلم بالصواب