اگر کسی کو گیس کا مسئلہ ہو اور وہ گیس کو روک روک کر نماز پڑھتا ہے اور نماز میں بھی اس کو وضو کے ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہو اور یہ بھی ڈر ہیں کیا وہ اسلام سے خارج نہ ہو جائے راہ نمائی فرمائیں ۔
(۲) اگر کوئی شخص کسی گناہ کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو جائے تو وہ دوبارہ اسلام کیسے قبول کریں؟ تفصیل سے بتا دیں آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔
۱۔ محض ریح یعنی گیس کی بیماری خروج عن الاسلام کا باعث نہیں، بلکہ اس بیماری کے دوران پورے نماز کے وقت میں مثلاً شروع وقت ظہر سے اخیر وقت ظہر تک اتنا وقت نہ ملتا ہو کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ صرف فرض نماز ادا کر سکے تو شرعا وہ معذور کے حکم میں داخل ہوگا، اس صورت میں اسے چاہیے کہ وہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے اور اس پورے وقت میں نماز اور دیگر عبادات بجا لا سکتا ہے۔ بشرطیکہ کوئی دوسرا ناقض وضو ظاہر نہ ہو اور اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو پھر وہ معذور بھی شمار نہیں ہوگا۔
۲۔ العیاذ باللہ اگر کوئی مسلمان کلمہ کفر وغیرہ کے ارتکاب کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے تو اپنے اس گناہ پر ندامت کی ساتھ بصدق دل تو بہ واستغفار کرے اور کلمہ شہادت پڑھ کر دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے بچنے کا پورا اہتمام کرے۔
کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) )الى قوله( (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. (1/ 305)
وفيه ايضاً : وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة اھ (4/ 231) والله تعالى أعلم
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 7امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1