کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مسئلہ ذیل میں کہ لائف انشورنس کرنا، کرانا اور وہاں ملازمت کرنا جائز ہے؟ شریعت و سنت کی روشنی میں جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مروّجہ انشورنس کمپنیوں کے کاروبار عموماً ربا و قمار، غرر اور دیگر کئی ایک غیر شرعی اصول و ضوابط پر مبنی ہوتے ہیں، اس لئے ان کی کوئی پالیسی لینا خواہ وہ جنرل انشورنس سے متعلق ہو یا فیملی اور لائف وغیرہ سے ,یہ جائز نہیں، اور ایسے معاملات انجام دینے کیلئے ان کمپنیوں میں ملازمت کرنا بھی جائز نہیں، ہر دو امور سے احتراز لازم ہے۔
وفي مشکاة المصابیح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (۲/۸۵۵)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1