مفتی صاحب !ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ کیا کافر ملک میں رہنے والے بینک سے سود پر پیسہ لے سکتے ہیں ؟ میں نے ایسا فتوی دیکھا ہے جس میں لکھا تھا کہ کوئی مسلمان جو کسی کافر ملک میں رہتا ہو، یا وہاں بزنس کرتا ہوں ،وہ بینک سے (کیونکہ اُن ملکوں میں پرسنٹیج کم ہوتا ہے، اس لئے )سود پر پیسہ لے سکتا ہے کیا یہ درست ہے ؟ شرط یہ ہے کہ حکمران " کافر ہو اور کافر ملک ہو جیسا چاپان چائینہ۔ براہِ مہربانی تفصیل سے اور فورا ًجواب دیں۔ جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ سود کا لینا جیسا دارالاسلام میں ناجائز اور حرام ہے، اس طرح مفتی بہ قول کے مطابق دارالحرب میں کسی حربی کافر سے بھی سود لینا حرام ہے، اس لئے اس بھی احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار: (ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة. (5/ 186)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله لأن ماله ثمة مباح) قال في فتح القدير: لا يخفى أن هذا التعليل إنما يقتضي حل مباشرة العقد إذا كانت الزيادة ينالها المسلم (الى قوله) فالظاهر أن الإباحة بقيد نيل المسلم الزيادة، وقد ألزم الأصحاب في الدرس أن مرادهم في حل الربا والقمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا إلى العلة وإن كان إطلاق الجواب خلافه والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب اهـ. قلت: ويدل على ذلك ما في السير الكبير وشرحه حيث قال: وإذا دخل المسلم دار الحرب بأمان، فلا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان لأنه إنما أخذ المباح على وجه عرى عن الغدر فيكون ذلك طيبا له (إلى قوله ) فعلم أن المراد من الربا والقمار في كلامهم ما كان على هذا الوجه وإن كان اللفظ عاما لأن الحكم يدور مع علته غالبا اھ (5/ 186)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1