مفتی صاحب!ایک شخص نے عمرہ کے تمام مناسک ادا کر لیے مگر سر منڈوانے سے قبل قضائے حاجت کےلیےبیت الخلا جانا پڑا ؟ بیت الخلا سے نکل کر اس شخص نے حرم کے وضو خانے میں موجود Liquid Soap جو کہ خوشبودار ہوتا ہے اس سے ہاتھ دھوئے ، کیا اس شخص پر دم واجب آتا ہے ؟ اگر ہاں تو کیایہ دم صرف حرم میں ہی ذبیحہ کی شکل میں ادا کرےگایا اپنے ملک میں کسی مدرسے میں اس مقدار میں رقم ادا کر سکتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شخص مذکور نے سر منڈوانے سے قبل ، قضائے حاجت کے بعد ، خوشبودار صابن سے فقط ایک بار ہاتھ دھوئے ہوں، اس صابن کو بار بار استعمال نہ کیا ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص پر فقط صدقہ فطر ( پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ) ادا کر نالازم ہے۔
ففی غنیة الناسك: ولو غسل رأسه أو یده بأشنان فیه الطیب، فإن کان من راہ سماه أشنانا، فعلیه صدقة إلا أن یغسل مرارا فدم، وإن سماہ طیبا فدم، ولو غسل رأسه بالخطمی فعلیه دم عند أبی حنیفة، وقال صدقة اھ (ص: ۲۴۹)
وفیہا أیضا: ولو غسل رأسه بالخطمی بعد الرمی قبل الحلق یلزمه دم علی قول أبی حنیفة علی الأصح ، لأن احرامه باق لا یزول إلا بالخلق اھ (ص: ۱۷۳)
وفی الفتاوى الهندية: فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيرا فاحشا ففيه الدم، وإن كان قليلا ففيه الصدقة كذا في المحيط. الطيب إن كان الطيب في نفسه بحيث يستكثره الناس ككفين من ماء الورد وكف من الغالية والمسك بقدر ما استكثره الناس فهو كثير وما لا فلا والصحيح أن يوفق ويقال إن كان الطيب قليلا فالعبرة للعضو لا للطيب حتى لو طيب به عضوا كاملا يكون كثيرا يلزمه دم وفيما دونه صدقة، وإن كان الطيب كثيرا فالعبرة للطيب لا للعضو حتى لو طيب به ربع عضو يلزمه دم هكذا في محيط السرخسي والتبيين اھ (1/ 241)