السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی شادی عمروکی بیٹی سے ہو رہی ہےتو یہ نکاح ٹیلفون پر ہو رہا ہے، اور گواہ موجود ہیں، اب آپ بتائیں کہ گواہ جو ہیں لڑکا اور لڑکی دونوں طرف سے ہونگے یا ایک طرف سے؟ اگر دونوں طرف سے ہونگے تو اس کی وضاحت فرمائیں۔
دوسرا مسئلہ: زید اپنی بیوی سے جماع کر رہا ہےاور اس دوران اپنی بیوی کے پستانوں کو منہ میں لے کر اس سے دودھ پیتا ہے، حالانکہ بیوی کا دودھ پینا صحیح نہیں ہے، اگر زید نے اپنی بیوی کا دودھ جماع کے دوران پی لیا تو کیا یہ دودھ پینا اس کے لیے مکروہ ہے یا حرام ہے؟ اور اس کا نکاح باقی رہے گا نہیں؟ براہ کرم دونوں مسئلوں کی وضاحت کریں۔
عقدِ نکاح کی صحت کے لیے شرعاً کچھ شرائط ملحوظ ہیں جو ٹیلفون کے ذریعے عقدِ نکاح میں مفقود ہیں، لہٰذا مذکور طریقہ سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ لڑکا یا لڑکی کسی شخص کو اپنی طرف سے عقدِنکاح کا وکیل مقرر کر دے اور پھر وہ اس کی طرف سے مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلے۔
۲۔ بیوی کا دودھ پینا حرام ہے جس سے آئندہ کےلیے احتراز لازم ہے، البتہ مذکور فعل سے عقدِنکاح پر شرعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ففی الدر المختار: مص رجل ثدي زوجته لم تحرم. (3/ 225)
و فی الدر المختار:(ويثبت التحريم) في المدة فقط (إلی قولہ)(ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية. (3/ 211)