کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹی وی پر مذہبی پروگرام دیکھنا جائز ہے اسی طرح انہی پروگراموں کی ویڈیو بھی جائز اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ چلتی پھرتی دیکھتی بولتی یہ تصویریں نہیں کہلاتیں بلکہ اس کو عکس کہا جاتا ہے، جبکہ شریعت میں حرام تصویریں ہیں نہ کہ عکس، جبکہ ہم تو اس کی (یعنی عام تصویریں) بھی حرمت سنتے اور پڑھتے رہے ہیں، اور عکس کو جیسا آئینے میں دیکھنا جائز ہے تو اسکرین میں بھی جائز ہے۔
دوسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے زمانے میں تصویریں ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہوتی تھیں، حرام بھی وہیں ہوں گی نہ کہ کیمرے کی تصویریں۔
تیسری بات یہ کہتے ہیں براہِ راست تصویریں یعنی کرکٹ وغیرہ کے دیکھنے کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا ہے، دونوں تصویروں، یعنی براہِ راست اور ریکارڈ شدہ تصویروں میں کیا فرق ہے؟ بینوا وتوجروا!
موجودہ حالات میں ٹیلویژن بے شمار منکرات ومحرمات اور فواحشات پر مشتمل ہے جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
(۱) گانا بجانا، ساز سارنگی اور ڈھولک وغیرہ جو کہ قطعاً ناجائز ہیں، جبکہ ٹی وی کے اکثر پروگرام اسی پر مشتمل ہیں، ان کے ہوتے ہوئے تو تصاویر کے بغیر بھی کوئی پروگرام دیکھنا یا سننا جائز نہیں۔
(۲) نامحرم مرد کا عکس کسی نامحرم عورت کو اور نامحرم عورت کا عکس یا تصویر کسی نامحرم مرد کو دیکھنا جائز نہیں، جیسے آئینہ میں کسی نامحرم کو دیکھنا جائز نہیں، جبکہ ٹی وی کے پروگرام نامحرم مرد و عورت پر ہی مشتمل ہوتے ہیں اور عام دیکھنے والے بھی نامحرم ہی ہوتے ہیں اور کسی شخص کا یہ کہنا کہ ’’ٹی وی کی اسکرین پر براہِ راست پیش ہونے والے مناظر تصویر نہیں بلکہ عکس ہیں‘‘ بے سود ہے، اس لئے کہ ٹی وی کا اصل حکم اس بات پر موقوف نہیں بلکہ اس کی حرمت کی اصل وجہ اوپر بیان کردی گئی ہے، پس ان مناظر کا دیکھنا قطعاً جائز نہیں خواہ وہ تصویر ہوں یا عکس، پھر اسے اگر عکس تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی بے پردہ فاحشہ عورتوں کے عکس کو دیکھنا کسی نے بھی جائز نہیں قرار دیا، اسی طرح عورتوں کیلئے نیم برہنہ مردوں کے عکس کو دیکھنا بھی کسی کے نزدیک جائز نہیں، اور اگر بالفرض اسے عکس تسلیم کرکے جائز بھی قرار دے دیں تب بھی بعض خارجی مفاسد کی بناء پر ایک جائز اور مباح کام ناجائز ہوجاتا ہے، جبکہ ٹی وی تو مجسمۂ فساد ہے اسے کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔
(۳) پروگرام خواہ کسی نوعیت کا ہو ٹی، وی کے جو عام اثرات سامنے آرہے ہیں وہ یہ ہیں: بے حیائی، بے غیرتی، بے ادبی اور فحاشی جیسے دیگر جرائم نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور پورا مسلم معاشرہ تباہ ہوکر رِہ گیا ہے، ظاہر ہے کہ ٹی وی کے حاصل اور انجام کو دیکھا جائے گا، اور اس کا انجام انتہائی خطرناک اور خلافِ شرع ہے۔
البتہ اگر ٹی، وی کا کوئی پروگرام بفرضِ محال مذکورہ بالا محرمات اور دیگر تمام مفاسد و منکرات سے بالکل خالی ہو اور نہایت پاکیزہ ہو تو اس کے جواز میں درجِ ذیل تفصیل ہے۔
تحقیق کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹی وی کے پروگرام تین قسم کے ہوتے ہیں:
(۱) واقعات کی مصور فلم ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے۔
(۲) واقعات اور پروگرام براہِ راست نشر کئے جاتے ہیں۔
(۳) واقعات کی غیر مصور فلم ریکارڈ کی طرح پہلے تیار کرلیتے ہیں جس میں آواز کے ساتھ کچھ غیر شرعی نقوش بھی ٹیپ ہوجاتے ہیں اور پھر حسبِ موقع اس کو لگاتے ہیں جس میں سے آواز کی طرح تصاویر بھی آجاتی ہیں۔
ان میں سے پہلی صورت میں جو کچھ دکھلایا جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پاکیزہ، مذہبی اور تعلیمی نوعیت کا پروگرام ہو وہ بلاشبہ تصویر ہے اور جاندار کی تصویر دیکھنا دکھلانا قطعاً حرام ہے، اس میں متحرک اور غیر متحرک تصاویر کے حکم میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ جس طرح جانداروں کی تصویر بنانا حرام ہے اسی طرح بلا عذر قصدًا ان کو دیکھنا بھی حرام ہے، جیسا کہ عبارتِ ذیل سے واضح ہورہا ہے۔
اس رسالہ میں اگر مفصل دلائل مطلوب ہوں تو حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے رسالہ ’’تصحیح العلم فی تقبیح الفلم‘‘ کا مطالعہ فرمالیں۔
البتہ دوسری اور تیسری صورت میں جو کچھ دکھلایا جاتا ہے اسے قطعی طور پر تصویر کہنے میں تأمل ہے، مگر چونکہ ٹی وی کے پروگرام کے متعلق ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کس طرح یقین کرے کہ یہ پروگرام کی فلم آرہی ہے یا براہِ راست پروگرام ہو رہا ہے اور مسئلہ حرام اور غیر حرام کا ہے جس میں ترجیح حرمت ہی کو ہوتی ہے، اس لئے اس بنیاد پر مطلقاً ٹی وی دیکھنے کو جائز سمجھنا یا بتلانا درست نہیں، بالخصوص جبکہ مذکورہ بالا منکرات و فواحش ٹی وی کے پروگراموں میں جُزء لا ینفک کی حیثیت رکھتے ہیں، تو ایسی صورت میں ٹی وی خریدنا، گھر میں رکھنا اور دیکھنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
وھذا کلہ مصرّح فی مذہب المالکیۃ ومؤید بقواعد مذہبنا ونصّہ عن المالکیۃ ما ذکرہ العلامۃ الدردیر فی شرحہ علی مختصر الخلیل حیث قال یحرم تصویر حیوان عاقل أو غیرہ اذا کان کامل الاعضاء إذا کان یدوم، وکذا ان لم یدم علی الراجح کتصویرہ من نحو قشر بطیخ ویحرم النظر الیہ، إذ النظر الی المحرم حرام اھـ (بلوغ القصد والمرام) وکذا فی ’’تصویر کے شرعی أحکام‘‘ مصنّفہ حضرت مفتی أعظم پاکستان مولان مفتی محمد شفیع صاحبؒ: ص٧٧)