میرے پیر صاحب کو میرے رشتہ دار نے گالی دی ہے، اب میرا ان سے کیا رویہ ہونا چاہئے کیا ان سے معافی کا مطالبہ کروں یا ترکِ تعلقات کروں؟
سائل کے مذکور رشتہ دار نے اگر بلا کسی وجہ کے سائل کے پیر کو گالیاں دی ہوں تو اس کا یہ عمل ناجائز اور فسق ہے جس پر اسے توبہ واستغفار کرنا چاہئے مگر سائل کو اس سے قطع تعلق کے بجائے حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ جس بات کی وجہ سے سائل کے رشہ دار نے پیر صاحب کو گالی دی ہے اس طرح کی باتوں سے آئندہ اجتناب چاہئے۔
کما فی سنن الترمذی: عن عبد اللہ بن مسعود: قال: قال رسول اللہ ﷺ: سباب المسلم فسوق، وقتالہ کفر، ہذا حدیث حسن صحیح۔ (ج۲، ص۹۲)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن أبی ایوب الانصاریؓ قال: لا یحل للرجل أن یہجر أخاہ فوق ثلاث لیال، یلتقیان فیعرض ہذا ویعرض ہذا وخیرہما الذی یبدأ بالسلام۔ متفق علیہ۔
وتحتہ: قال الخطابی: رخص للمسلم أن یغضب علی أخیہ ثلاث لیال لقلتہ ولا یجوز فوقہا إلا إذا کان الہجر فی حق من حقوق اللہ تعالیٰ فیجوز ذٰلک إلخ۔ (ج۸، ص۷۵۸)۔
وفی سنن الترمذی: عن محمد بن جبیر بن مطعم، عن أبیہ قال: قال رسول اللہ ﷺ: لا یدخل الجنۃ قاطع، قال ابن أبی عمر: قال سفیان: یعنی قاطع رحم، ہذا حدیث حسن صحیح۔ (ج۲، ص۱۳)۔
وفیہ أیضًا: عن أبی ہریرۃ: أن رسول اللہ ﷺ قال: تفتح أبواب الجنۃ یوم الاثنین والخمیس فیغفر فیہما لمن لا یشرک باللہ شیئا إلا المہتجرین، یقال: ردوا ہذین حتی یصطلحا. ہذا حدیث حسن صحیح۔ ویروی فی بعض الحدیث: ذروا ہذین حتی یصطلحا، ومعنی قولہ المہتجرین: یعنی المتصارمین، وہذا مثل ما روی عن النبی ﷺ أنہ قال: لا یحل لمسلم أن یہجر أخاہ فوق ثلاثۃ أیام۔ (۲، ص۲۲) واللہ اعلم بالصواب