گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کروانا جائز نہیں

فتوی نمبر :
28504
| تاریخ :
2016-04-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کروانا جائز نہیں

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام کہ امتحانی حال میں نقل کرنا کیساہے اور اگر ایک استاد سوالیہ پرچہ کی اطلاع قبل از وقت ایک شاگرد کو دے تو ان کا کیا حکم ہے؟ اور اگر ایسا شاگرد اس معاملہ میں مداخلت کرکے اپنے حق کا مطالبہ کرلے تو کیا یہ بےا دبی کے ضمن میں آتاہے؟ یہاں ایک مدرسہ میں ایساہی ہوا تو اساتذہ نے شاگرد کو مار کر اور کہنے لگے آپ بے ادب ہے اور اس کو بد دعا بھی کی اور بعض شاگردوں کو پرچہ بھی حل کرواتاہے جواب مطلوب ہے شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امتحانی حال میں نقل کروانا یا کسی استاذ کا پرچہ آؤٹ کرنا خیانت، بددیانتی کے ساتھ دیگر طلباء کے ساتھ نا انصافی بھی ہے اور شرعاً ناجائز وحرام ہے اس لیے استاذ کا اس طرح غیر اخلاق اور غیر شرعی کام کا ارتکاب کرنا پھر کسی طالب علم سے اس کا اظہار ہونے پر اس پر ناراض ہونا یا بد دعا کرنا غلط ہے اور اس طرح کی ناراضگی اور بددعا مؤثر بھی نہ ہوگی اس لیے فریقین کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال تعالٰی: ﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْ مُرُکُمْ اَنْ تُوَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِہَا﴾ (سورۃ النسا: آیت: ۵۸)
وقال ایضًا: ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَائِنِیْنَ﴾ (سورۃ الانفال: آیت: ۵۸)
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ ’’آیۃ المنافق ثلاث‘‘ زاد مسلم وان صام وصلی وزعم انہ مسلم‘‘ ثم اتفقا’’ واذا حدث کذب واذا وعد أخلف واذا اؤتمن خان۔۔۔
فالکذب الإخبار علی خلاف الواقع وحق الأمانۃ ان تؤدی الی اہلہا فالخیانۃ مخالفۃ۔ (۱/ ۲۲۶) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رمزی افلاح عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 28504کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات