گناہ و ناجائز

ہندوستان کے سفر سے قبل داڑہی کٹوا کر جانا

فتوی نمبر :
27712
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ہندوستان کے سفر سے قبل داڑہی کٹوا کر جانا

السلام علیکم! میں ہندوستان میں سفر پر کسی مقام کو جانے والا ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ میری داڑھی کی وجہ سے میری جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہےدورانِ سفر، تو کیا میں کچھ عرصہ کیلئے داڑھی نکال سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صحیح احادیث کی روشنی میں ’’باجماع امت‘‘ داڑھی منڈانا اور ایک قُبضہ یعنی ایک مشت سے کم کرانا یا کتروانا حرام ہے، اس لئے سائل پر لازم ہے کہ اس موہوم خطرے کی بناء پر داڑھی کو نہ منڈائے بلکہ اس کے علاوہ جو ممکنہ تدابیر ہوسکتی ہیں ان کو بروئے کار لائے تاکہ سفر بھی ہوجائے اور حرام کا ارتکاب بھی نہ کرنا پڑے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: ولا بأس بنتف الشیب، وأخذ اطراف الحیۃ والسنۃ فیھا القبضۃ (الی قولہ) ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ الخ۔ (ج٦، ص٤٠٧) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27712کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات