گناہ و ناجائز

خواتین کے ناخن اگر بڑے ہوں،اور شلوار ٹخنوں سے اوپر ہو تو ان کی نماز ہو جائے گی ؟

فتوی نمبر :
49644
| تاریخ :
2022-03-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خواتین کے ناخن اگر بڑے ہوں،اور شلوار ٹخنوں سے اوپر ہو تو ان کی نماز ہو جائے گی ؟

آج کل لڑکیاں اور خواتین نماز پڑھتی ہیں، لیکن دونوں ہاتھوں کے ناخن بڑے ہوتے ہیں ، براہ مہربانی راہ نمائی فرمائیں اور ٹخنوں سے اوپر شلوار بھی ہوتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ناخن تراشنا فطرت انسانی ہے، اس لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ خاص کر جمعہ والے دن ناخن تراشنا مستحب ہے اور ہر جمعے کو نہ کاٹ سکے تو ایک جمعہ چھوڑ کر پندرہ دن میں تراش لے اور چالیس دن سے زیادہ ناخن یا غیر ضروری بال نہ کاٹنا مکروہ ہے ، نیز ناخن بڑھانا بعض بیماریوں کا سبب بھی ہے، البتہ ناخن بڑھا کر صاف ستھرا رکھنے کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہے ، تاہم اگر اس میں میں میل کچیل ہو اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو اس صورت میں نماز نہ ہو گی۔
جبکہ عورتوں کے لیے ٹخنے کھول کر نماز پڑھنے کی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر پانچے اتنے اوپر ہو کہ پنڈلی کا چوتھائی یا اس سے زائد حصہ کھلا ہوا ہو اور ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر ٹخنے اس طرح کھلے رہیں تو اس صورت میں ستر عورت نہ ہونے کی وجہ سے نماز نہ ہو گی، اور اگر چو تھائی پنڈلی کے بقدر نہ ہو، بلکہ کم ہو تو نماز کر اہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی، البتہ عورت کے اس طرح ٹخنے کھلے رکھنے سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (ويستحب قلم أظافيره) إلا لمجاهد في دار الحرب فيستحب توفير شاربه وأظفاره (يوم الجمعة) وكونه بعد الصلاة أفضل إلا إذا أخره إليه تأخيرا فاحشا فيكره لأن من كان ظفره طويلا كان رزقه ضيقا وفي الحديث «من قلم أظافيره يوم الجمعة أعاذه الله من البلايا إلى الجمعة الأخرى وزيادة ثلاثة أيام» اھ (6/ 405)
وفي بدائع الصنائع: (ومنها) ستر العورة لقوله تعالىٰ: ﴿يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد وكلوا﴾ [ الأعراف : 131]، قيل في التأويل: الزينة: ما يواري العورة. والمسجدة الصلاة، فقد أمر بمواراة العورة في الصلاة وقال النبي ﷺ «لا صلاة للحائض إلا بخمار»، كنى بالحائض عن البالغة؛ لأن الحيض دليل البلوغ فذکر الحیض البلوغ لملازمة بینهما، وعلیه اجماع الأمة، ولأن ستر العورة حال القیام بین یدی الله تعالیٰ من باب التعظیم، وأنه فرض عقلا وشرعاً اھ (۱/۱۱۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز بخت پور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 49644کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات