گناہ و ناجائز

گھر پر بلی پالنے کا حکم

فتوی نمبر :
57310
| تاریخ :
2020-10-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھر پر بلی پالنے کا حکم

کیااسلام میں یہ جائز ہے کہ بلی کو پالتوجانورکے طورپررکھاجائے؟ میرے پاس دو بلیاں ہیں، میں ان کی صفائی ستھرائی کا پوراخیال رکھتاہوں، وہ اپنا پیشاب پاخانہ مخصوص جگہ پر میں کرتی ہے،گھرمیں کسی اورجگہ گندگی نہیں کرتی، شریعت کا اس کے رکھنے کے بارے میں کیاحکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگربلی کے کھانے پینے کا پوراخیال رکھاجائے اور اس کی وجہ سے گھرمیں گندگی وغیرہ کا بھی کوئی اندیشہ نہ ہو، تو اسے رکھنے میں شرعابھی کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن الہر من متاع البیت لن ینقذر شیئاً ولن ینجّسہ۔ (معارف السنن: ۳۲۹/۱، ط: دارالکتاب دیوبند) قال السہارنفوری: والحقہا بہم أی بالممالیک وخدم البیت لأنہا خادمة حیث تقتل الموذیات أو لأن الأجر فی مواساتہا کما فی مواساتہم (بذل المجہود: ۴۲۲/۱، ط: مرکز ابی الحسن) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 57310کی تصدیق کریں
0     1910
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات