گناہ و ناجائز

کسی کا وائی فائی ہیک کر کے استعمال کرنا

فتوی نمبر :
34413
| تاریخ :
2018-05-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی کا وائی فائی ہیک کر کے استعمال کرنا

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ’’وائی فائی‘‘ کو ہیک کرکے انٹرنیٹ کواچھے مقاصد کیلئے استعمال کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی اور شخص کے وائی فائی کو اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر ہیک کرکے انٹرنیٹ استعمال کرنا (اگرچہ اچھے مقاصد کیلئے ہو) جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مشکاۃ المصابیح: وعن أبی حرّۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ ﷺ: ’’ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امریٔ إلّا بطیب نفس منہ‘‘۔ (ج۲، ص۸۸۹)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (لا یحل مال امریٔ) أی: مسلم أو ذمّی (إلا بطیب نفس) أی: بأمر أو رضا منہ۔ الخ (ج۔۔۔ ص۱۴۹)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء محمد سلطان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34413کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات