میری چچا کی بیٹی انگلینڈ میں رہتی ہے اور وہ کچھ وقت کے لیے پاکستان گئی اور اس کی بہن نے فیس بک سے ایک رشتہ دیکھا اور تھوڑی بہت تحقیق کی،لڑکی پہلے مطلقہ ہے اور لڑکے نے بتایا کہ اس کا نکاح ہوا تھا لیکن لڑکی کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی تو اس نے طلاق دے دی،لڑکی نے دعا خیر کے بعد جب لڑکے سے بات کی تو اسے پتہ چل گیا کہ لڑکا ذہنی طور بھی کچھ نارمل نہیں لگتا اور اس نے کچھ ایسی باتیں کیں جو شادی سے پہلے بنتی نہیں تھی جیسے کہ مجھے بہت جلد اولاد چاہیے،لڑکی نے کہا ابھی ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے اس کاانتظار ضروری ہے، لڑکی نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے حق مہر میں پچیس لاکھ چاہیے لیکن لڑکےنے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں،جس پر لڑکی نے باپ سے کہا کہ آپ کچھ وقت ڈال دیں اور لڑکے سے کہا کہ ہمارے مزاج بھی نہیں ملتے اور مجھے ایک سیٹل لڑکا چاہیے اس لیے آپ اس کو ختم کردیں لیکن انگلینڈ کے لالچ میں اس نے انکار کر دیا،اس وقت تک والد نے اپنے رشتہ داروں کو بتا دیا تھا اس لیےانہوں نے لڑکی کی نہ سنی اور وعدہ کیا کہ میں دس لاکھ حق مہر کی بات کروں گا جو انہوں نہیں کی، لڑکی نے اپنا پورا زور لگایا اور شادی والے دن اس نے بھائی سے کہا کہ میں وہاں اپنا حق مہر مانگوں گی لیکن باپ اور ماموں نے اپنے سر اس کے گھٹنوں پر رکھ کر مجبور کرلیا اسے اور شادی ہوگئی، لڑکا اپنے باپ اور ماں کے ساتھ صرف شادی کے لیے آیا اور کسی اور کونہیں لایا، شادی سے پہلے لڑکے کی اولاد والی بات سن کر لڑکی نے مانع حمل گولیاں خرید لیں،اس نے لڑکے کو بتایا کہ انگلینڈ میں میرا کام ہے اور میں آپ کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتی اس لیے آپ ابھی بچوں والے کام سے باز رہیں لیکن اسے کسی نے مشورہ دیا ہوا تھا کہ لڑکی کو حمل ٹھرا کر بھیجنا تاکہ وہ کہیں وہاں جا کر تمہیں نہ بلائے،جتنے دن لڑکی رہی اس نے اسے ایک روپیہ بھی خرچہ نہیں دیا الٹا لڑکی نے شادی بھی اپنے خرچے پر کی اور اس کے علاوہ بھی خرچہ کیالیکن لڑکے نے بالکل بھی اس کا کچھ خرچ نہ دیا حتیٰ کہ عید پر عیدی بھی نہ دی، لڑکی واپس انگلینڈ آئی تو اسے پتہ چلا کہ وہ حمل سے ہے، اس لڑکے کو بتا یا تو اس نے کہا میرے ویزے کا کچھ کرو جلد، لڑکی نے شادی سے پہلے ہی اسے بتا دیا تھا کہ ویزہ کا اتنا خرچ ہے جو آپ کو کرنا ہے،لڑکی نے اس سے پوچھا کہ میرے منع کرنے کے باوجود آپ نے زبردستی مجھے حاملہ کر دیا ہے اور اب سے میری پوری زندگی متاثر ہوجائے گی تو اس پر لڑکے نے کہا میں بچے کو کچھ نہیں دے سکتا جب تک میں انگلینڈ نہیں آتا، لڑکی نے دیکھا کہ وہ کبھی کال نہیں کرتا حالانکہ میری صحت بھی خراب ہورہی ہے، لڑکی سے وہ بچے کا تو نہ پوچھتا لیکن ویزے کا ضرور پوچھتا، لڑکی کو اس کی پہلی شادی کے بتائے گئے واقعات پر پہلے ہی شک تھا، اس نے اپنے بھائی کے ذریعے سے پرانے سسرال سے رابطہ کیا اور ان کے علاقے سے تحقیقات کیں تو پتہ چلا ان سے بھی اس نے جھوٹ بول کر شادی کی تھی اور لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی تھی تو باپ نے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے لڑکی اور اس کے باپ کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا، انہوں نے اس کی منت سماجت کی اس نے لڑکی پر جھوٹی تہمت لگا دی لیکن وہ بہت مذہبی لوگ تھے اور انہوں نے جب اس سے اس کے کام پر جہاں وہ بلاتا تھا ان سے لڑائی کی اور بات پولیس تک پہنچ گئی، اس نے لڑکی کی پوسٹس انٹرنیٹ پر لگا دیں اور لڑکی کو مجبورکرنا شروع کردیا، بہرحال انہوں نے جب پتہ کرایا تو پتہ لگا کہ لڑکا بدقماش ہے اور اس کے علاوہ گندی عورتوں سے بھی اس کے روابط ہیں جو کہ پولیس نے بھی اب کنفرم کردیا ہے، لڑکا اب میری کزن کو بھی مختلف طریقوں سے بلیک میل کررہا ہے جس میں اس کا چار ہفتے کا حمل بھی ہے، وہ بچے کا خرچہ اٹھانے کو تیار نہیں لیکن وہ لڑکی سے چاہتا ہے کو وہ ایک کروڑ کے قریب رقم لگا کر اسے بلائے اور تب آکر وہاں بچے کا سوچے گا،جب سے لڑکی کواس کے اصل کرتوتوں کا پتہ چلا ہے جو کہ اس نے ویری فائی کروائے ہیں وہ اس سے اب خلع لینا چاہتی ہے لیکں وہ یہ بھی جانتی ہے وہ اس بچے کو لے کر ساری عمر اس کو تنگ کرے گا اور اس کو اپنے بچے کی جان کو بھی خطرہ محسوس ہورہا ہے،اس کی بہن نے اس سے کہا ہے کہ یہ انسان ساری عمر تمہیں بلیک میل کرے گا،ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے لڑکی کو شادی کی ابتدائی راتوں میں کچھ ایسا شربت پلایا جس سے وہ غنودگی میں چلی گئی اور اس کو لگا کہ وہ اس سے کچھ باتیں پوچھتا رہا لیکن پھر اس کو ہوش نہ رہا، اس کے پہلے سسر نے ہم سے پوچھا کہ کیا رخصتی ہوگئی ہے جب ہم نے بتایا ہوگئی ہے تو انہوں کہا اس نے لازمی بچی کی غیر مناسب تصویرں بنا لیں ہونگی، اس پر لڑکی کو وہ نشہ آور دوائی والی بات یاد آگئی، لڑکا جرائم پیشہ ہے باپ نے گھر سے نکالا ہوا ہے، لڑکی کو اس سے اب اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ خلع بھی لے تو یہ اس بچے کی وجہ سے اس کی زندگی اجیرن بنا کر رکھے گا،اس کی فیملی اس سے کہہ رہی ہے کہ یہ تمہیں نہ کہیں شادی کرنے دے گا اور ساری عمر اس بچے کو استعمال کرے گا،اب ہمیں بھی پتہ چلا کہ لڑکا ذہنی بیماری اور اس کے علاوہ کچھ جسمانی معزولیوں کا بھی شکار ہے، لڑکی جاننا چاہتی ہے کہ وہ اگر اپنے مستقبل کی زندگی کی مشکلات اور اس بچے کو اکیلے پالنے اور بچے اور پنی زندگی کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اگر یہ حمل ضائع کرتی ہے تو کیا وہ گنہگار تو نہ ہوگی ہمارے معاشرے میں بچے والی عورت سے کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا اور خاص کرکے جب دو دفعہ طلاق یا خلع ہوچکی ہو،ہم نے ایک پورا مہینہ اس لڑکے کی تحقیقات کروائی ہیں اور ہمیں پرانے سسرال کے سب ثبوت دیکھنے کہ بعد اور اس پولیس کے اس ایس ایچ او سے بات کرکے جس نے پچھلی لڑکی کے والد کو طلاق میں مدد کی اور ان کے دکھائے ہوئے ثبوت دیکھ کر ہمیں یقین ہے کہ یہ لڑکی کی زندگی اجیرن بنا دے گا ، یہاں ساری تفصیلات لکھنا ممکن نہیں لیکن آپ کال کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو ساری تفصیل بتائی جاسکے، سوال یہ ہے کہ یہ سارے مستقبل کے حالات کو اگر دیکھا جائے اور لڑکی اس حمل کو ختم کردے جس کو ابھی صرف چار ہفتے ہوئے ہیں تو کیا لڑکی گناہ گار ہوگی؟ مزید تفصیل کے لیے آپ فون کرسکتے ہیں واٹس ایپ پر لڑکی اس پر فتوی چاہتی ہے تاکہ اس کو یہ یقین ہو کہ یہ گناہ گار نہیں ہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی الزام تراشی اور مبالغہ ارائی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی کزن اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے تحقیق کرنے کے بعد اس کے شوہر کا غیرشرعی امور میں ملوث ہونا یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہو جس کی وجہ سے سائل کی کزن کو اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد مستقبل میں مذکور حمل کی وجہ سے بلیک میلنگ وغیرہ کا یقین ہو، تو ایسی صورت میں حمل میں جان پڑنے سے قبل (جوکہ عموماً چار ماہ میں ہوتی ہے) اسے حمل ضائع کرنے کی گنجائش ہے، تاہم نکاح ہوجانے کے بعد بصورتِ خلع علیحدگی کے لئے جانبین(میاں وبیوی) کی رضامندی ضروری ہے، اس لئے مذکور لڑکی کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ کسی طرح سے لڑکے کی رضامندی کے ساتھ خلع کا راستہ اختیار کریں، تاکہ یہ خلع شرعاً بھی معتبر ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوسکے۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح.(مطلب فی العزل،ج3،ص176،ص176،ط:سعید)۔