میں ایک قاری ہوں ، جو کہ بچوں کو ہدیہ پر قرآن پڑھاتا ہوں تجوید کے ساتھ ، بچوں کے والدین یہ کہتے ہیں کہ آپ کا طریقہ بہت مشکل ہے اور الگ ہے اور ہم نے تو ایسا نہیں پڑھا ہے ، مطلب وہ بلا تجوید اور بلا مخارج سے پڑھوانے کے لۓ بولتے ہیں ، تو اس طرح قرآن پڑھانا یا جو والدین کی یہ سوچ ہے کہ اپنے بچوں کو اس طرح قرآن پڑھوائیں جو بلا تجوید اور بلا مخارج کے ساتھ ہو ، اس مسئلہ میں قاری اور والدین کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
قرآن کریم اس طرح پڑھانا کہ اس کے سارے حروف صحیح مخرج سے ادا ہوں ، واجب ہے، مگر یہ انداز ختیار کرنا کہ تجوید کے قواعد بھی ساتھ ہی یاد کرانا شروع کر دیا جائے جو بچے پر اضافی بوجھ ہے، درست نہیں، اس لۓ والدین اور اُستاد دونوں کو اعتدال سے کام لینا چاہیۓ ۔
كما قال اللہ تعالی : ﴿وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ (المزمل: 4)۔
و في الفتاوى التاتارخانية : الفصل الاول في ذکر حرف مکان حرف و انه على وجهين الاول اھ (1 /۴۶۴)۔
و فى البحر الرائق : و حد القرأة تصحيح الحروف بلسانه حيث يسمع نفسه على الصحيح اھ (1 / ۲۹۳)۔