میرا سوال یہ ہے کہ ایک طرف وعدہ نبھانا ہو ، اور دوسری طرف والد کا حکم ہو تو انسان کسے نبھائے؟ یعنی کہ اگر میں نے کسی سے وعدہ کیا ہو شادی کا اور والد کہے کہ یہاں شادی نہیں کرو ، تو مجھے وعدہ توڑنا چاہیے، یا والد کا حکم ماننے سے معذرت کی جائے؟ چونکہ وعدہ بھی ایسی حالت میں ہوا کہ والد نے شادی کرنے میں تاخیر کی ، اگر وقت پر شادی ہوتی تو یہ مسئلہ شاہد پیش نہ آتا، کیا اسلام اجازت دیتا ہے کہ وعدہ پورا کرنے کے لیے میں اس سے نکاح کرلوں والد کو بتائے بغیر ، کیونکہ ابو مزید شادی میں تاخیر کر رہے ہیں ، تاخیر کی وجہ گھر کو بیچنا ہے والد نے اپنے بھائیوں سے علیحدگی کی ہے، میری عمر 27 سال ہے مجھے کیا کرنا چاہیے، اسلام تو جلد شادی کا حکم دیتا ہے، اور شادی کرانا اولاد کی والد کا فرض یا والد کا اولاد پر احسان ہے؟ پسند کی شادی گناہ تو نہیں ؟
والد کا حکم ماننے کی صورت میں اس کا بھی جواب دیں ، ایک دوسرے کو جاننے کے بعد میں نے اس کو اسلام کی کچھ معلومات دیں، اور وہ ٹھیک راستے پر آگئی ہو، پردہ کرنے لگ گئی ہو، اور وقت کی نماز پڑھنے لگ گئی، اسلام پر چلنے کی کوشش کرنے لگ گئی ہو کیا پھر بھی میں اس سے کیا ہوا وعدہ توڑ دوں ، تو یہ گناہ تو نہیں ہوگا؟
سائل کا ایک نامحرم عورت کے ساتھ اس طرح کے بے تکلفانہ تعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ فوراً ان تعلقات کو ختم کر کے اللہ تعالی کے حضور توبہ واستغفار کرے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل نے مذکور وعدہ اگر والدین کی اجازت کے بغیر کیا ہو، تو والد کے حکم کے مقابلے میں اس کی حیثیت نہیں ، البتہ والد اجازت دیدیں، تو اپنا وعدہ بھی پورا کرسکتے ہیں، جس میں خیر بھی ہوگی، ورنہ والدین کی اجازت سے دوسری جگہ شادی کرنے کی فکر کریں، جہاں تک پسندکی شادی کا تعلق ہے، تو اسے اگر چہ شرعیت نے ممنوع قرار نہیں دیا مگر والد اور دیگر سرپرستوں کو نظر انداز کر کے کیا جانے والا نکاح ان کی دعاؤں سے محرومی وغیرہ وجوہات کی بناء ناپائیدار اور جدائی اور علیحدگی، پر منتج ہوتاہے، لہذا زندگی کے اس اہم معاملہ کا خود فیصلہ کے بجائے اپنے والدین اور بڑوں کے سپر د کرنا بہتر ہے، جبکہ والد اگر نکاح کرانے پر قادر ہو، اولاد کا نکاح کرانا اس کے فرائض میں سے ہے، بلاوجہ اگر اس میں تاخیر کی اور اولاد گناہ میں مبتلاء ہوگئی، تو ان کے ساتھ والد بھی گناہ گار ہوگا۔
کمافی مشکاۃ المصابیح: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيَ الربِّ فِي رضى الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (3/1379 رقم الحدیث 4927)۔
وفیہ ایضاً: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إثمه على أَبِيه» (2/939 رقم الحدیث3138 )۔
وفی المرقاۃ : (إِنْ بَلَغَ) أَيْ: وَهُوَ فَقِيرٌ (وَلَمْ يُزَوِّجْهُ) أَيْ: الْأَبُ وَهُوَ قَادِرٌ (فَأَصَابَ) أَيْ: الْوَلَدُ (إِثْمًا) أَيْ: مِنَ الزِّنَا وَمُقَدَّمَاتِهِ (فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ) أَيْ: جَزَاءُ الْإِثْمِ عَلَيْهِ لِتَقْصِيرِهِ وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى الزَّجْرِ وَالتَّهْدِيدِ لِلْمُبَالَغَةِ وَالتَّأْكِيدِ، الخ (5/2064 رقم الحدیث 3138 )۔
وفی الدرالمختار: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا الخ (6/369)۔