میرا سوال یہ ہے کہ مستحب عمل کیا ہوگا ؟ تعریف بتا دیں، کیونکہ آج کل لوگ جنازے کے بعد قبر پر اذان دے رہے ہیں تو کہتے ہیں یہ مستحب ہے، اسی طرح حیلہ بھی کرتے ہیں، کیا یہ بدعت نہیں؟
مستحب اس عمل کو کہتے ہیں جس کو شارع علیہ السلام نے پسند کیا ہو اور اس کے کرنے سے ثواب ملتا ہو اور نہ کرنے پر کوئی گناہ لازم نہ آتا ہو ، جبکہ قبروں پر اذان کہنا شارع سے منقول ہی نہیں، چہ جائے کہ اس کو پسند کیا ہو ، اس لئے یہ بدعتِ سیئہ ہے، جس سے احترانہ لازم ہے۔
في حاشية ابن عابدين : (قوله : و يسمى مندوبا و أدبا) زاد غيره و نفلا و تطوعا ، و قد جرى على ما عليه الأصوليون ، و هو المختار ( إلى قوله) فيسمى مستحبا من حيث إن الشارع يحبه ويؤثره ، ( إلى قوله) قال في الإمداد : و حكمه الثواب على الفعل و عدم اللوم على الترك . اهـ (1/ 123)-
و فيه أیضاً : تحت (قوله : لا يسن لغيرها) أي من الصلوات و إلا فيندب للمولود . (إلی قوله) قيل و عند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا ، لكن رده ابن حجر في شرح العباب ، (إلی قوله) أقول : و لا بعد فيه عندنا . اهـ (1/ 385)-