میں ایک کمپنی میں 28 دن کام کرتا ہوں اور 28 دن آرام کے ہیں ،تو جن دنوں میں باہر ہوتا ہوں، ان دنوں میں میری بیوی میری اجازت سے اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہے، تو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیئے ، جبکہ میرے والدین بھی اکیلے رہ جاتے ہیں،کیا میں بیوی کو روک سکتا ہوں ،تاکہ اُن کی خدمت اور خیال رکھے ؟ اور اگر نہیں روک سکتا ،تو میں کیا کروں ،میں اپنے والدین کے لئے کوئی ملازم رکھ سکتا ہوں ؟ اور میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ وہ میرے والدین ، بہن بھائیوں کے کام بھی دل سے نہیں کرتی،اس معاملہ میں میں کیا کروں ؟ بہت سمجھا چکا ہوں، کوئی بھی اپنے والدین کو محتاج نہیں کرنا چاہتا، لیکن جب میری بیوی اس طرح کرتی ہے ،تو میرے والدین محتاج لگتے ہیں ،جبکہ میں بیوی کے والدین کا بہت احترام کرتا ہوں ، تو ان سب صورتِ حال کی وجہ سے میں ڈیوٹی کے دوران بہت پریشان ہوتا ہوں ،کیونکہ ہر وقت والدین اور بیوی کا خیال رہتا ہے، اور بیوی ایک بار میرے والدین کی بد تمیزی بھی کر چکی ہے،میں نے اُس کو وارننگ دی کہ آئندہ ایسا نہیں کرنا بھلے کام کرو یا نہ کرو ،لیکن بد تمیزی کرنا مجھے برداشت نہیں۔ برائے مہربانی ان سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں ؟
سائل کی بیوی کا مذکور طرزِ عمل نا مناسب اور اخلاق سے گرا ہوا ہے، کیونکہ ساس سسر کی حقیقت والدین کی سی ہے ،اور ان کی خدمت دیانۃً و اخلاقاً واجب ہے، خصوصاً جب شوہر اس کا حکم کرے، تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے اجتناب کرے ،اور ساس سسر کی خدمت کو سعادت سمجھ کر انجام دے، اگر سائل اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے والدین کی خدمت کے لئے کسی ملازم کو رکھ لے تو اس کا اسے اختیار ہے۔
ففي الدر المختار: وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به اھ (3/ 208)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به ط (3/ 208)۔
وفيه ايضاً : تحت (قوله لوجوبه عليها ديانة) فیفتى به اھ(3/ 579)۔