سود

ٹائنز ملٹی مارکیٹنگ کمپنی کے کاروبار اور اس میں شامل ہونے کاحکم

فتوی نمبر :
24855
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / سود

ٹائنز ملٹی مارکیٹنگ کمپنی کے کاروبار اور اس میں شامل ہونے کاحکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ٹائنز ایک ملٹی مارکیٹنگ کمپنی ہے، جس کا طریقہ کار ویب سائٹ: http://www.tiens.com.pk/Business.opportunites.htm پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا ایسی کمپنی کا کاروباری طریقہ کار جائز ہے اور اس میں شامل ہونا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں تحریر کردہ ’’ ٹائنز کمپنی ‘‘ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی کمپنیاں وجود میں آئی ہیں، جو کم قیمت کی چیز مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ،اور ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں۔ لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں، جو شرعاً قمار کی ہی ایک شکل ہے۔ چنانچہ ’’ ٹائنز کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں ،تو یہ کاروبار بھی ناجائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات عام مارکیٹ میں نہیں ہیں، تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے، لوگ جس قیمت پر خریدنے کو تیار ہوں ،وہ اس کی بازاری قیمت ہے، اب اگر کمپنی کی قیمت پر لوگ خرید نے کیلئے تیار ہیں، تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے اور اگر اس قیمت پر خرید نے کیلئے تیار نہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زائد قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس صورت میں زائد رقم ڈوب جائے گی۔
لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا معمولی سا فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(1)۔یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ "کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے" یہ محض حیلہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر بنے اس کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا چاہے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی۔
(۲)۔کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کیلئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا ، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بے کار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا ۔ دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والی کمیشن وجود و عدم کے درمیان معلق ہے، گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا، اور شرعاً یہ درست نہیں ہے۔ہاں اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کمیشن کم ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کا روبار میں شامل ہیں، ان کو چاہیئے کہ اس کا روبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
كما في الدر المختار: (و) اعلم أنه (لا رد بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين (في ظاهر الرواية) وبه أفتى بعضهم مطلقا كما في القنية ثم رقم وقال (ويفتى بالرد) رفقا بالناس اھ (5/ 142)-
وفي حاشية ابن عابدين: وذلك كما لو وقع البيع بعشرة مثلا، ثم إن بعض المقومين يقول إنه يساوي خمسة، وبعضهم ستة وبعضهم سبعة فهذا غبن فاحش؛ لأنه لم يدخل تحت تقويم أحد اھ (5/ 143)۔
وفي الدر المختار: (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) اھ (5/ 85)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
وفی البحر الرائق: لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحد منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص اھ (8/ 554) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حنیف اللہ خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24855کی تصدیق کریں
0     1568
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات