السلام علیکم! مجھے اللہ کی ذات کو لے کر بہت سے عجیب و غریب خیالات آتے ہیں کہ میرا کیا عقیدہ ہے؟ اس کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں، خواہ آسمان پر ہوں یا زمین پر، خشکی پر ہوں یا پانی میں، جو کچھ اللہ نے بنائی ہیں، اللہ کی ذات بالکل کسی سے بھی نہیں ملتی، وہ ذات کیسی ہے؟ کیسی دکھتی ہے، اس کا علم صرف اور صرف وہ خود رکھتاہے انسانی آنکھ کبھی بھی اللہ کی ذات کو نہیں دیکھ سکتی اور انسانی عقل میں وہ علم کبھی بھی نہیں آسکتا جو اللہ کی ذات کو سمجھ سکے، انسان کو اللہ کی ذات کو لے کر جیسے بھی جتنے بھی خیالات آتے ہیں، وہ شیطان پریشان کرتاہے، وہ انسان کا ایمان خراب کرنا چاہتاہے، کیوں کہ انسانی عقل اللہ کی ذات کا بالکل تصور کر ہی نہیں سکتی، انسانی عقل میں وہ علم آہی نہیں سکتا کسی بھی صورت کہ وہ رب کی ذات کو یا اس کی کسی بھی صفت کو سمجھ لے، کیا میرا عقیدہ ٹھیک ہے؟ اگر کوئی حوالہ ہے تو وہ بھی دے دیں اردو ترجمہ کے ساتھ۔ (۲) کیا یہ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کی ذات کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچنا چاہیے؟ جزاک اللہ۔
سائل کا مذکور عقیدہ تو ٹھیک ہے کہ اللہ کی ذات کو انسانی عقل نہیں سمجھ سکتی اور یہ بھی درست ہے کہ اللہ کی ذات میں غور نہیں کرنا چاہیے، اس لیے شریعت مطہرہ نے اس بارے میں جو حکم دیا ہے، اس کی پاسداری لازم ہے، البتہ خود سے کسی قسم کے فاسد خیالات آئیں تو اس پر مؤاخذہ نہیں اور خیالات فاسدہ آنے کی صورت میں اگر ان کو ناپسندیدہ سمجھے تو یہ ایمان کی علامت ہے، ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ۔(الٲنعام:۱۰۳)۔
في مشکاۃ المصابیح: عن أبي هريرة قال سمعت رسول الله ۔ صلى الله عليه وسلم ۔ يقول: " لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال: هذا خلق الله الخلق فمن خلق الله؟ فإذا قالوا ذلك فقولوا الله أحد، الله الصمد، لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفوا أحد، ثم ليتفل عن يساره ثلاثا، وليستعذ من الشيطان ". رواه أبو داود اھ (۱/۱۹)۔
وفیها ٲیضا: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به. قال: «أو قد وجدتموه» قالوا: نعم. قال: «ذاك صريح الإيمان» . رواه مسلم اھـ (۱/۱۹) واللہ أعلم بالصواب!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1