میں اپنی فیملی سے الگ رہتا ہوں، میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، یہ سوچ کر کہ شاید ہم مستقبل میں دوبارہ رہ سکیں گے، میرے چار بچے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں کتنا خرچہ میں اپنی بیوی اور بچوں کو دوں یا تنخواہ کا کتنا فیصد میں اسے بچوں کے اخراجات کیلئے دے سکتا ہوں؟ وہ اپنی ماں کے گھر رہ رہی ہے اور اپنا کرایہ ادا نہیں کر رہی۔
سائل کی بیوی اگر اس کی اجازت کے بغیر اور بغیر کسی عذر شرعی کے اپنی ماں کے گھر رہ رہی ہو تو وہ ناشزہ (نافرمان) ہے، اس کا خرچہ سائل پر لازم نہیں ، البتہ بچوں کا بقدرِ کفایت خرچہ سائل کے ذمہ لازم ہے۔
كما فی بدائع الصنائع: قال أصحابنا: هذه النفقة غير مقدرة بنفسها بل بكفايتها۔اھ (4/23)
وفیه أيضاً: ولهذا لم تجب النفقة للناشزة وهذه ناشزة۔اھ (4/19)
وفي الفتاویٰ الهندية: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد۔اھ (1/560)