السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ !صباح الخیر
امید کرتا ہوں کہ سب خیریت سے ہوں گے , استاد محترم: میں محمد فاروق جو کہ سعودی عرب میں کام کرتا ہوں , ویسے پاکستان سے ہو ں, میں 15 ماہ پہلے سعودی عرب آیا تھا , میرے آنے کے چار دن بعد میری بیوی اپنے باپ کے گھر چلی گئی ، وہاں ہی اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی , میں کسی مجبوری کےتحت نہیں آسکا , میں نے ہزاروں بار اس سے کہا کہ میرے گھر چلی جاؤں اور میرے اپنے والد ،والدہ اس کو کافی بار لینے گئے ، وہ نہیں آئی , اور نہ ہی میری بیوی میری فیملی سے رابطہ کرتی ہے , اور نہ ہی مجھ سے , تو میرے گھر والوں نے مجھے منع کردیا کہ اس کو خرچہ نہیں دینا ,تو مہربانی میری راہنمائی فرمائیں۔
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بیوی اپنے شوہر(سائل) کے گھر کیوں منتقل نہیں ہو رہی ،تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا۔
تاہم اگر سائل کی بیوی بلا اجازت گھر سے گئی ہو اور بلا کسی شرعی عذر کے سائل کے اصرار کے باوجود اپنے شوہر کے گھر منتقل نہ ہو رہی ہو تو اس کا یہ فعل شرعاً درست نہیں،بلکہ اس پر لازم ہے کہ شوہر کے گھر لوٹ جائے،ورنہ سائل اس کا خرچہ (نان نفقہ) بند کر سکتا ہے۔
کما فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : (و لا نفقة لناشزة) أي عاصية ما دامت على تلك الحالة ثم وصفها على وجه الكشف فقال (خرجت) الناشزة (من بيته) خروجا حقيقيا أو حكميا (بغير حق) وإذن من الشرع قيد به(1/ 489)
و فی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: لمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج ، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً ، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً و بدونه لا يمكن إيجاب النفقة(3/ 522)-
و فی الدر المختار : (خارجة من بيته بغير حق) و هي الناشزة حتى تعود و لو بعد سفره(3/ 576)-