السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ!
اگرشوہرکی اجازت کے بغیر بیوی میکے چلی جائے تو کیا وہ نکاح نامہ میں درج خرچہ بصورت ناچاقی کی حقدار ہوگی ؟ جبکہ یہ حرکت ایک سے زیادہ بار ہو چکی ہو ؟
واضح ہو کہ شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا میکے جانا اور بلانے کے باوجود واپس گھر نہ آنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو گی، اور ایسی صورت میں گھر سے باہر جتنے دن رہے گی تو ان دنوں کے نان نفقہ کی حقدار بھی نہ ہوگی، لہذا بیوی پر لازم ہے کہ بلا اجازت شوہر کے گھرسے باہر نہ جائے تا کہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو اور شوہر کو بھی چاہیئے کہ وقتا فوقتاً بیوی کو والدین سے ملنے لے جایا کرے ، تاکہ بیوی کی دل جوئی ہو اور اسے نافرمانی کرنے کا موقع نہ ملے۔
كما في مصنف عبد الرزاق: عن الشعبي قال: ليس للعاصية نفقة، يقول اذا عصت زوجھا فخرجت بغير اذنه اھ (7/95)۔
وفي الفتاویٰ الهندية: وان نشرت فلانفقة لها حتى تعود إلى منزله، والناشرة ھی الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه اھ (1/545)۔