ایک عورت ہے وہ ایک سرکاری سکول میں استانی ہے اس نے اپنی تنخواہ میں سے کچھ رقم جو کہ تقریباً 20 لاکھ روپے بنتی ہے اپنے شوہر سے پوچھے بغیر اپنے بھائیوں کو مالی امداد کے طور پر دی،وہ اپنے شوہر کو اپنی تنخواہ میں سے تقریباً 90 فیصد حصہ گھر کے معاملات اور بچوں کی تعلیم و پرورش کے لیے دیتی ہے ، اب جب شوہر کو پتہ چلا تو شوہر اس بات پر غصہ ہے کہ اس نے چھپا کر رقم دی اور وہ اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس رقم کو اپنے بھائیوں سے واپس لے اور اپنی تنخواہ کا 100 فیصد حصہ اسے جمع کروائے اور ہر ماہ 10 ہزار روپے نان و نفقہ کے لیےاس خاتون کو دیے جائیں گے جبکہ اس خاتون کی تنخواہ 1لاکھ روپے سے اوپر ہے ۔کیا شوہر کا تنخواہ اور اس کے بھائیوں کو دی گئی رقم کا واپس مطالبہ کرنا جائز ہے نیز عورت کا یہ عمل غیر شرعی ہے یا نہیں ،اور وہ اپنی اس تنخواہ کو شوہر کو دینے کی شرعی طور پر پابند ہے۔براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ
صورت مسئولہ میں مذکور عورت کو تنخواہ کی مد میں ملنے والی رقم شرعاً اسی کی ملکیت ہے ،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتی ہے اس میں اس کے شوہر یا کسی اور کا کوئی حصہ نہیں ،چنانچہ مذکور عورت کا اپنی ذاتی رقم میں سے کچھ رقم شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے بھائیوں کو امداد کے طورپر دینا شرعاً جائز اور درست ہے ،لہذا شوہر کیلئے اپنی بیوی سے بھائیوں کو بطور امداد دی گئی رقم کی واپسی ،یا اسے پوری تنخواہ دینے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ شوہر کے ذمہ بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے ،تا ہم اگر مذکور عورت اپنی دلی خوشی سے گھر کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم و پرورش وغیرہ کیلئے بطور تعاون و ہمدردی ،اپنے شوہر کو ذاتی رقم میں سے کچھ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے ۔
فی شرح المجلہ :کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء (الی قولہ ) لان کون الشئی ملکاً لرجل یقتضی ان یکون مطلقاً فی التصرف کیفما شاء اھ(4/132)
وفی الفتاوى الهندية :تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/544)