ہم چار بھائی بہن ہیں،بڑا بھائی شادی شدہ کرائے کے گھر پر رہتا ہے،اور میرے تینوں بھائی والدہ کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں،میرے بھائی نوکری بھی کرتے ہیں،اور کچھ اپنا کاروبار بھی ہے،میرا ماشاء اللہ سے اپنا کاروبار بھی ہے،مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میری آمدنی میں سے شرعی طور پر کتنے فیصد مجھے والدہ کو دینا چاہیئے ، جس پر میری بیوی بچوں کے حق متاثر نہ ہورہے ہوں اور آخرت میں میری پکڑ نہ ہو،اصل میں اس معاملہ کو لیکر میرے گھر میں لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں،میری بیوی کہتی ہے کہ پہلے ہم اپنا نصیب کا کھاتے تھے ، اب کسی اور کے نصیب کا کھاتے ہیں،مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔
سائل کی والدہ کے پاس ذاتی اخراجات پورے کرنے کیلئے پیسے موجود ہوں تو بیٹوں پر والدہ کے ساتھ تعاون کرنا شرعاً لازم نہیں،البتہ والدہ ضرورت مند ہو،ان کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے ذاتی رقم نہ ہو تو تمام بیٹوں کے ذمہ اتنی رقم دینا واجب ہے،جس سے وہ اپنی ضروریات باآسانی پوری کرسکے،جبکہ بیوی بچوں کو ان کا حق دینا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا بھی لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله. وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام اھ(3/572)۔
وفی رد المحتار: والحاصل أن الأم إذا كان لها زوج تجب نفقتها على زوجها لا على ابنها. وهذا لو كان الزوج غير أبيه كما صرح به في الذخيرة، ومفهومه أنه لو كان أباه تجب نفقته ونفقتها على الابن، لكن هذا ظاهر لو كانت الأم معسرة أيضا؛ أما لو كانت موسرة لا تجب نفقتها على ابنها بل على زوجها اھ(3/623)۔