میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، گھر میں ،میں اور میری والدہ ہے ، ماں کی میں اکلوتی اولاد ہوں ، گھر بھی کافی بڑا ہے بیوی مطالبہ کررہی ہے کہ الگ مکان میں ماں کو چھوڑ کر رہیں ، اس صورت حال میں رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ ؟
سائل کا مذکور گھر اگر واقعۃً اتنا بڑا ہو کہ جس میں بیوی کا ا لگ کمرہ اٹیچ باتھ روم کے ساتھ متعین ہو جہاں پر اس کا ذاتی سازوسامان محفوظ ہوسکتا ہو تو ایسی صورت میں بیوی کا الگ رہائش اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ،اور نہ ہی سائل پر الگ مکان میں رہائش دینا لازم ہے بلکہ اسی گھر میں ایک کمرہ اٹیچ با تھ روم اور کچن کے ساتھ دیدیں تو شوہر کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی پھر بیوی کا مستقل علیحدہ مکان کا مطالبہ بھی درست نہ ہو گا، اور نہ ہی سائل کی بیوی کیلئے سائل کی والدہ کو الگ گھر میں رکھنے کا مطالبہ کرنا درست ہوگا ۔
كما في التنزيل العزيز : اسكنوھن من حيث سكنتم من وجدكم ولا تضاروھن لتضيقوا عليهن اھ ( سورة الطلاق / الآية (6)
وفى سنن الترمذي :قال: أخبرنا بهز بن حكيم قال: حدثني أبي، عن جدي قال: قلت: يا رسول الله، من أبر؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: ثم أباك، ثم الأقرب فالأقرب. (373/3)
وفي رد المحتار: فان كانت دار فيها بيوت واعطى لها بيتاً يغلق ويفتح لم يكن لها ان تطلب بيتاً آخر اذا لم يكن ثمة احد من احماء الزوج يؤذيها اھ (3/600)
وفيه ايضاً: ابت ان تسكن مع ضرتها او صهرتها ان امكنه ان يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك وليس للزوج ان يسكن امراته وامه في بيت واحد لانه يكره ان يجامعها وفى البيت غيرهما وان اسكن الام فى بيت داره والمرأة فی بيت آخر فليس لها غير ذلك (601/3)۔
وفي الفتاوى الهندية: امراة ابت ان تسكن مع ضرتها او مع احمائها كامه وغيرها فان كان فى الدار بيوت وفرغ لها بيتاً وجعل لبيتها غلقاً على حدة ليس لها ان تطلب من الزوج بيتا آخر فان لم يكن فيها الا بيت واحد فلها ذلك وان قالت لا اسكن مع امتك ليس لها ذلك وكذلك لو قالت لا اسكن مع ام ولدك اھ (556/1)-