اگر بیوی سارا دن جاب کرتی ہو،پھر کیا ہمارے اوپر اس کا نان نفقہ واجب ہے؟
واضح ہوکہ عورت کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر ملازمت کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر شوہر کی طرف سے ملازمت کی اجازت ہو اور آنے جانے اور ملازمت کے دوران کسی قسم کے فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو اور غیر مردوں کے ساتھ اختلاط بھی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں پردۂ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں نان ونفقہ شوہر ہی پر لازم ہوگا، البتہ اگر بیوی اپنے اخراجات خود برداشت کرے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں اور اگر بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر ملازمت کے لئے جاتی ہے تو اس صورت میں شوہر پر اس کا نان و نفقہ لازم نہیں اور وہ گناہ گار بھی ہوگی۔
کما تفسیر ابن کثیر: قوله تعالیٰ:(وقرن فی بیوتکن) ای الزمن بیوتکن فلاتخرجن لغیر حاجة(تحت قوله) عن عبد اللہ ۔رضی اللہ تعالیٰ۔عنه عن النبی ﷺ: ان المراة عورة،فاذا خرجت استشرفھا الشیطان واقرب ماتکون بروحة ربھا وھی فی قعر بیتھا اھ(3/631)۔
وفی البحر الرائق: واذا سلمت نفسھا بالنھار دون اللیل او علیٰ عکسه لاتستحق النفقة لان التسلیم ناقص قلت وبھذا عرف جواب واقعة فی زماننا بانه اذا تزوج من المحترفات التی تکون عامة النھار فی الکارنه واللیل مع الزوج لانفقة لھا اھ(4/180)۔
وفی الفقه الاسلامی وادلته: إذا عملت الزوجة نهاراً أو ليلاً خارج المنزل كالطبيبة والمعلمة والمحامية والممرضة والصانعة، فالمقرر في القانونين المصري والسوري أنه إذا رضي الزوج بخروجها ولم يمنعها من العمل، وجبت لها النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه وإن لم يرض بعملها، ونهاها عن العمل، فخرجت من أجله، سقط حقها في النفقة؛ لأن الاحتباس في هذه الحالة ناقص غير كامل، فلو سلمت المرأة نفسها بالليل دون النهار أو عكسه؛ فلا نفقة لنقص التسليم(الیٰ قوله)ویجب علیٰ المراةفی حال الخروج التزام الستر الشرعی،فلاتظھرشیئا من جسدھاغیر الوجه والکفین،لان فی کشف شئ مما اوجب اللہ سترہ تعریضاً للفتنة والتطلع الیھا اھ(10/7378)۔