ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، وہ دوسری بیوی کو صرف ماہانہ خرچہ دیتا تھا، ابھی وہ آدمی مرگیا ،دوسری بیوی کی صرف ایک بیٹی ہے، کیا وہ ماہانہ خرچہ اسکے اثاثے سے لے سکتی ہے ؟
مذکور شخص کی دوسری بیوی مرحوم کی وفات کے بعدتو وہ ماہانہ خرچہ جو وہ اسکی زندگی میں وصول کرتی تھی ،لینے کی حقدار نہیں، البتہ وہ ترکہ میں سے اپنے حصہ کے بقد رحصہ دار ہے چنانچہ تقسیمِ ترکہ میں اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو تو وہ مرحوم کے ترکہ سے اپنے حصہ کے بقدر خرچہ لینے کی بھی حقدار ہے۔
کما فی المشكوة: عن ابي ھریرۃعن النبي صلى الله علیهوسلم قال انا اولیٰ بالمؤمنين من انفسهم فمن مات و عليه دين ولم يترك وفاء فعلى قضاؤه ومن ترك مالا فلورثته (1/663)۔
وفي التاتارخانية:قال مشائخ العراق الارث يجرى في آخر جزء من اجزاء حياة المورث و قال مشائخ بلخ : الارث يجرى بعد موت المورث اھ (2/215)۔