کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داماد نے میری بیٹی کو طلاق دیدی ہے ، طلاق نامہ کسی اور کے ذریعہ بھجوادیا ہے ، اب ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ شوہر پر طلاق دینے کی صورت میں حقِ مہر اور عدت کے خرچہ کے علاوہ اور کس چیز کی ادائیگی لازم ہے ؟ جبکہ نکاح نامہ میں ماہوار پانچ ہزار روپے بصورتِ ناچاقی بھی لکھے گئے ہیں ، اور میری بیٹی تقریبا ًچار سال سے ہمارے گھر پر موجود ہے ، لہذا اس کے متعلق بھی رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ شوہر نے بیوی کو سسرال میں خود چھوڑا تھا ، صبح کے وقت لایا تھا اور کہا تھا کہ شام کو آکر لے جاؤنگا ، اور اب چار سال ہوگئے ہیں ، اب اس نے طلاق نامہ بھجوادیا ہے ۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابق اصل ہو اور سائل کے داماد نے مذکور طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کیے ہوں تو اس سے سائل کی بیٹی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ،البتہ دورانِ عدت کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہے ، جبکہ نان نفقہ اور حقِ مہر کے علاوہ ماہانہ پانچ ہزار روپے کا مطالبہ کرنا یا گذشتہ چار سالوں کے نفقہ کا مطالبہ کرنا عورت کے لیے شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالی: اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم و لاتضاروھن لتضیقوا علیھن وان کن اولات حمل فانفقو علیھن حتی یضعن حملھن (سورۃ الطلاق ایت 6)۔
وفی إعلاء السنن: عن ابی ھریرۃ عن جابر عن النبیﷺ قال المطلقۃ ثلاثۃ لھا السکنی والنفقۃ رواہ الدارقطنی (ج11 ص295 باب ان المطلقۃ المبتوتۃ لھا السکنی والنفقۃ ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی الھدایۃ: واذا طلق الرجل امرأتہ فلھا النفقۃ والسکنی فی عدتھا رجعیا کان او بائنا (الی قولہ) سمعت رسول اللہﷺ یقول للمطلقۃ الثلاث النفقۃ والسکنی مادامت فی العدۃ الخ (ج1ص446باب النفقۃ ط: رحمانیۃ)۔
وفی التاتارخانیۃ: المعتدۃ اذا لم تخاصم فی نفقتھا ولم یفرض القاضی لھا شیئا حتی انقضت العدۃ فلا نفقۃ لھا الخ (ج5 ص401 الفصل الثانی فی النفقات المطلقات ط:رشیدیۃ)۔
وفی الدرالمختار: (والنفقۃ لا تصیر دینا الا بالقضاء او الرضا)ای اصطلاحھما علی قدر معین اصنافا او دراھم،فقبل ذلک لا یلزمہ شیئ،وبعدہ ترجع بما انفقت ولو من مال نفسھا بلا امر قاض الخ وفی رد المحتار تحت(قولہ والنفقۃ لا تصیر دینا الخ) ای اذا لم ینفق علیھا بان غاب عنھااو کان حاضرا فامتنع فلا یطالب بھا بل تسقط بمضی المدۃ (الی قولہ) وکذا لو تراضیا علی شیئ ثم مضت مدۃ ترجع بھا ولا تسقط قال فی البحر: فھذا ھو المراد بقولھم او الرضا (الی قولہ) فالذی یتعین المصیر الیہ علی کل مفت وقاض اعتماد عدم السقوط خصوصا ما تضمنہ القول بالسقوط من الاضرار بالنساء اھ ملخصا ورد علیہ العلامۃ المقدسی والخیر الرملی بامکان حمل ما فی البدائع من الحقوق التی لا تسقط علی المھر و نفقۃ ما دون الشھر والنفقۃ المستدانۃ بامر وبان ھذہ الروایۃ قد افتی بھا من تقدم وذکرت فی المتون کالوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والغرر وغیرھا: قال المقدسی: ولھذا توقفت کثیرا فی الفتوی بالسقوط وظفرت بنقل صریح فی تصحیح عدم السقوط فی خزانۃ المفتین وفی الجواھر انہ لاینبغی ان یفتی بسقوطھا بالطلاق الرجعی لئلا یتخذھا الناس وسیلۃ لقطع حق النساء اھ ـ والذی یتعین المصیر الیہ ان یقال: یتأمل عند الفتوی کما جرت بہ عادۃ المشائخ فی ھذا المقام اھ ملخصا (الی قولہ) لکن صحح الشرنبلالی الخ ) وعبارتہ: المرأۃ اذا طلقت وقد تجمد لھا النفقۃ مفروضۃ قیل تسقط وھو غیر المختار: واشار الیہ المصنف ای ابن وھبان بصیغۃ قیل والاصح عدم السقوط ولو کان الطلاق بائنا لئلا یتخذ حیلۃ لسقوط حقوق النساء وما ذکرہ الشارح ای ابن الشحنۃ غیر التحقیق فی المسألۃ اھ ویوافقہ ما فی القھستانی عن خزانۃ المفتین ان المفروضۃ لا تسقط بالطلاق علی الاصح اھ (ج3 ص594 /595 مطلب لاتصیر النفقۃ دینا الا بالقضاء او الرضا ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً: اذ لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی الخ(ج4 ص 61 باب التعزیر ط: سعید)۔