میرے چار ماموں ہیں، نانی حیات ہے اور نانا کا انتقال ہوئے کچھ سال ہو گئے، نانی کے رہنے کا کوئی مقرّرہ ٹھکانہ نہیں، کبھی کسی ماموں کے گھر رہتی ہے، کبھی خالہ کے گھر یا میرے گھر،میرے ہاں رہنے میں میرے والدین اعتراض کرتے ہیں ،اور امی کہتی ہے کہ ماں کو رکھنا بیٹے پر فرض ہے، دوسری جگہ ماموں سورۃ بنی اسرائیل کے آیت نمبر 23 /24 کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ ماں باپ کے حقوق سب کو ادا کرنا پڑتے ہیں، اور اس میں بیٹے یا بیٹی کا کوئی فرق نہیں، ہر اولاد اپنی اپنی وجہ بتاتی ہے نہ رکھنے کی , یہ بیشک ایک افسوس ناک سوال ہے ،مگر شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
ضرورت مند اور محتاج والدین کا نفقہ صاحب حیثیت اولاد کے ذمہ واجب ہے، اس لئے سائل کے ماموؤں اور خالاؤں پر اپنی والدہ کا نفقہ علی السویہ واجب ہے،البتہ کوئی ایک والدہ کا نفقہ برداشت کرے ،تو دوسروں سے یہ وجوب ختم ہو جائے گا،جبکہ سوال میں مذکور صور ت حال کے پیش نظر اولاد گناہ گار ہو رہی ہے، ان پر اپنے اس طرزِ عمل سے احتراز اور اپنے کیے پر بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا أو ذميين قدرا على الكسب أو لم يقدرا (إلی قوله) وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية وبه أخذ الفقيه أبو الليث وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري (1/ 564)۔
و في الهداية شرح البداية: وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه أما الأبوان فلقوله تعالى { وصاحبهما في الدنيا معروفا } (2/ 46)۔