اگر بیوی گھر چھوڑ کر گزشتہ چھ ماہ سے اپنی ماں کے گھر رہ رہی ہو، اور وہ یہ شرط رکھتی ہے کہ شوہر کے والدین گھر چھوڑیں تو وہ اس کے ساتھ رہے گی، اور اپنے اور اس کے چار سال کے بچے کے ماہانہ اخراجات ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو اس صورت میں شوہر کو کیا کرنا چاہیئے؟ کیا وہ اپنی بیوی کے اخراجات پورے کرے جس دوران بیوی اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہو یا جب وہ گھر آئے ؟
بیوی اگر شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے میں بیٹھی ہوئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ناشزہ ہونے کی وجہ سے نفقہ کی مستحق نہیں، البتہ بچے کا نفقہ بہر حال باپ پر لازم ہو گا، البتہ اگر سائل کے گھر میں بیوی کا الگ کمرہ، اٹیچ باتھ روم کے ساتھ متعین ہو، جہاں پر اس کا ذاتی ساز و سامان محفوظ ہو سکتا ہو تو ایسی صورت میں بیوی کا الگ رہائش اختیار کرنے کا مطالبہ کر ناشر عاً درست نہیں، اور نہ ہی سائل پر الگ مکان میں رہائش دینا لازم ہے، بلکہ اس گھر میں ایک کمرہ، اٹیچ باتھ روم اور کچن کے ساتھ دے دیں تو شوہر کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی ، پھر بیوی کا مستقل علیحدہ مکان کا مطالبہ بھی درست نہ ہو گا، اور نہ ہی سائل کی بیوی کیلئے سائل کے والدین کو الگ گھر میں رکھنے کا مطالبہ کرنا درست ہو گا۔
کما قال اللہ تعالی: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ} الآیة [الطلاق: 6]
وفي سنن الترمذي: قال : حدثني أبي، عن جدي قال: قلت: يا رسول الله، من أبر؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: أمك قال: قلت: ثم من؟ قال: ثم أباك، ثم الأقرب فالأقرب۔الحدیث (3/373)
وفي رد المختار: عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها۔اھ (3/600)
وفى الهداية: وإن نشزت لا نفقة لها حتى تعود إلى منزله لأن فوت الاحتباس منها (2/286)
وفيه ايضاً: فصل: ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة الزوجة لقوله تعالىٰ: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ۔ [البقرة: 233] اھ (2/291)