کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہﷺ ایک برتن میں غسل کرتے جو ہمارے درمیان ہوتا اور آپ مجھ سے جلدی فرماتے، میں کہتی میرے لیے بھی چھوڑ دیں، میرے لیے چھوڑ دیں (صحیح مسلم، کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی حالۃ الجنابۃ) غالباً یہی حوالہ ہے ، عرض ہےکہ پڑھنے کے زمانہ میں جب یہ حدیث پڑھی تو فوراً ذہن میں یہی آیا کہ جیسے غسل کیا جاتا ہے ویسے کیا ہوگا، لباس انسان اتار دیتا ہے اور میاں بیوی کے لیے تو حرج بھی نہیں، لیکن استاد محترم نے بتایا کہ بالکل نہیں اتارا تھا، بلکہ ناف سے گھنٹوں کے درمیان مستور تھا۔
لیکن حال ہی میں ایک صاحب نے کہا کہ حافظ ابن حجر نے کہا کہ داؤدیؒ نے اس حدیث سے استدلال کر کے کہا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ سکتے ہیں اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے ،ابن حبان نے سلیمان بن موسیٰ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کی شرم گاہ دیکھتا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں عطاءؒ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے مذکورہ بالا حدیث ذکر کی، سوال یہ کہ غسل کیسا تھا؟ کیا مابین السترۃ والرکبۃ مستور تھا؟ یا بالکل بھی مستور نا تھا؟
حدیث میں دونوں باتوں کا احتمال ہے، اس لیے ائمہ مجتہدین اور شارحینِ حدیث نے اس سے ہر دو جہت کو ملحوظ رکھتے ہوئے استدلال فرمایا ہے۔
ففی الشمائل المحمدية للترمذي: باب ما جاء في حياء رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أبي سعيد الخدري قال: «كان صلى الله عليه وسلم أشدّ حياء من العذراء في خدرها «2» . وكان إذا كره شيئا عرفناه «3» في وجهه»(ص: 203)
وفی الشمائل المحمدية للترمذي: عن مولى لعائشة قال: «قالت عائشة: ما نظرت إلى فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قالت: ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قطّ»(ص: 203)
وفی مرقاة المفاتيح: عن يعلى رضي الله عنه، قال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يغتسل بالبراز (إلی قوله) ثم قال: " إن الله حيي ستير يحب الحياء والتستر ; فإذا اغتسل أحدكم فليستتر» ". رواه أبو داود والنسائي، وفي روايته قال: " «إن الله ستير، فإذا أراد أحدكم أن يغتسل فليتوار بشيء» ".(إلی قوله) قال أئمتنا: يحرم كشف العورة في الخلوة لغير حاجة اھ(2/ 431)
وفی إعلاء السنن: عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " بينا أيوب يغتسل عريانا الخ قال المؤلف: هو محمول علی الإغتسال فی الخلوة (إلی قوله) وجوب ستر العورت عام ولو فی الخلوة علی الصحیح إلا لغرض صحیح اھ(۱/۱۶۲)
وفی شرح صحيح البخارى: نُهى عن التعرى بحيث يراه أحد. وفى نهيه عليه السلام، عن المشى عريانًا بيان أنه لا يجوز القعود عريانًا فى موضع يكون معناه معنى الموضع الذى نهى فيه عن المشى عريانًا، وذلك القعود بحيث يراه من لا يحل له أن يرى عورته؛ فكان القعود عريانًا فى معنى المشى عريانًا، ولذلك نهى النبى عن دخول الحمام بغير إزار. (2/ 28) ـــــــــ والله أعلم بالصواب!