کیا ”DSOP“ فنڈ انٹرسٹ جو فوجی آفیسر کو دیا جاتا ہے،حلال ہے یا نہیں؟جبکہ فوج کا کہنا یہ ہے کہ وہ رقم مختلف کاموں کے فنڈ میں جاتی ہے اور سود واپس ہم کو دیا جاتا ہے،سود کی رقم ہر سال تبدیل ہوتی ہے۔
”DSOP“ (ڈیفنس سروسز آفیسرپراویڈنٹ فنڈ) اگر جبری ہو اور اس میں ملازم کو اختیار نہ ہو،بلکہ ایک ضابطہ کے تحت ملازم چاہے یا نہ چاہے،محکمہ اپنے طور پر ماہ بماہ ملازم کی تنخواہ سے رقم کاٹتا ہو اور پھر اپنی طرف سے کچھ رقم ملا کر مجموعی رقم کو کسی مالیاتی ادارے میں رکھتا ہو اور اس کے رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہ ہو تو شرعاً یہ تینوں رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ کا حصہ ہیں، اس لئے ملازم کے لئے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے،جبکہ ”DSOP“ اگر اختیاری ہو، جس میں ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹواتا ہو تو ایسی صورت میں پہلی دونوں رقمیں(ملازم کی تنخواہ سے ماہ بماہ کاٹی جانے والی رقم اور محکمہ کی طرف سے شامل کی جانے والی اضافی رقم) لینا تو درست ہے،البتہ تیسری رقم جو محکمہ بنام سود دیتا ہے، اس میں چونکہ تشبّہ بالربا ہے، اس لئے اس کو لے کر اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی البحر الرائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط اھ(7/300)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1