میں نقشبندی طریقت میں شیخ ۔۔۔۔۔ سے بیعت ہوں تصوف میں کیا قطب اور ابدال کا کوئی تصور ہے ؟
میرا ایک دوست کہتا ھیکہ ابدال کائنات کو کنٹرول کرتے ھیں کیا یہ صحیح ہے یا نہیں ؟ کیا یہ شرک ہے یا نہیں ؟
جی ہاں ! قطب اور ابدال ریاضت وسلوک کے اعلیٰ مراتب و درجات کے نام ہیں ،پس جو شخص قرب الہی کو سنت نبوی کے موافق اختیار کرتا ہے اور اس سلسلے میں اپنے اکابر و اولیاء کے وظائف و اوراد، اور نقش قدم کو اختیار کرتے ہوئے رب کریم کی خوشنودی کو اپنا مقصد حیات بنا لیتا ہے قطب اور ابدال کہلاتا ہے ، یہاں تک کہ اسکے انتقال پر رب کریم اسکا نائب بھی مقرر فرما دیتے ہیں مگر ان سب کے باوجود انہیں کائنات میں تصرف کا اختیار نہیں ہوتا اگر چہ یہ ضرور ہے کہ ایسے لوگوں اور افراد کی برکت سے نظام عالم کی بقا اور اسمیں بہتری مضمر ہے مگر اس سب کے باوجود نہ تو وہ نظام کے کنٹرول کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی شان میں اس قسم کا عقیدہ رکھنا درست ہے لہذامذکور عقیدہ فاسدہ سے احتراز لازم ہے ۔
فی سنن ابی داؤد : عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه علم قال يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هاربا الى مكة فیاتیه ناس من اهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ويبحث اليه بحث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فاذا رأى الناس ذلك اتاه ابدال الشام وعصائب اهل العراق فيبایعونه اھ (2/233) واللہ اعلم بالصواب