میرا نام رضوان حسین ہے، میرا تعلق انڈیا سے ہے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ’’ہوااللہ کی مرضی کے تابع نہیں ہے۔‘‘ تو کیا ایسا عقیدہ صحیح ہے ؟ ایسا شخص مسلمان ہے یا نہیں؟ کیا ہم ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں جو مذکور عقیدہ کا حامل ہو؟ اگر کوئی شخص اس کو مسلمان قرار دیتا ہے با وجو دیہ کہ وہ جانتا بھی ہےکہ وہ شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہے، تو کیا وہ مسلمان ہے یا نہیں؟
’’ہوا اللہ کی مرضی کے تابع نہیں‘‘ درست نہیں، بلکہ خلاف شریعت ہے، اورجو شخص واقعی ایسا عقیدہ رکھےاس کی قتدا میں نماز پڑھنا بھی درست نہیں ہوگی، مگر شخص مذکور نے کس تناظر میں کہے اگر اس کی پوری تفصیل کسی مستند عالم کے سامنے رکھ کر حکم شرعی معلوم کیا جائے تو یہ زیادہ دقرین انصاف ہے۔
في الفتاوی الهندية: (ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص اھـ(۲/۲۵۸)۔ واللہ اعلم بالصواب!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1