عمرہ پر روانگی کے دوران میقات پر احرام باندھنے کے بعد جو دو نفل ادا کئے جاتے ہیں یہ دو نفل احرام باندھنے کےلیے ادا کئے جاتے ہیں یا عمرہ کی نیت سے ؟ اور اگر دو نفل بندہ نہ پڑھ سکے تو کیا دم پڑ جاتا ہے یا نہیں ؟ علم ہونے کے باوجود اگر بندہ چھوڑ دے تو کیا حکم ہے؟ اور اگر لا علمی میں چھوڑ دے تو کیا حکم ہے؟براہِ کرم راہ نمائی فرما دیں؟
مذکور دورکعتیں جو احرام باندھنے کے بعد پڑھی جاتی ہیں یہ احرام کی سنتوں میں سے ہیں،لیکن اگر کوئی لا علمی یا کسی عذرکی وجہ سے نہ پڑھ سکے( یا قصدا نہ پڑھے )تو اس پر دم لازم نہیں آتا ،البتہ قصد اً (بغیر کسی عذر کے) چھوڑ دینا مکروہ ہے ،جس سے احتراز چاہیئے ۔
کما فی الدر : (وصلى ندبا)بعد ذلك (شفعا) يعني ركعتين فی غير وقت مكروه وتجزيه المكتوبة اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله وتجزيه المكتوب) كذا فی الزيلعي والفتح والبحر والنهر واللباب وغيرها اھ (2/482)۔