میرے شوہر شراب کے عادی ہیں،میں اپنے رمضان کے روزہ کی قضا سے تھی،اور انہوں نے زبردستی تعلق قائم کیا،جیسا کہ میں نے بتایا،وہ پیے ہوئے تھے،اس لئے اپنے پورے ہوش میں نہیں تھے،واضح رہے کہ یہ رمضان کا مہینہ نہیں تھا،اور صرف میرا روزہ تھا،میرے میاں صاحب کا نہیں تھا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اب کیا کفارہ ہم دونوں پر لازم ہے ؟
سائلہ کا شوہر شراب نوشی اور قضا روزہ کو توڑوانے کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہوا ہے،جس کی بناء پر اسے چاہیئے کہ بصدقِ دل تو بہ واستغفار کرے،اس کے علاوہ کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں،البتہ سائلہ پر اسی ایک روزہ کی قضا لازم ہوگی۔
كما في الدر المختار : (أو أكل) أو جامع (ناسيا) أو احتلم(إلى قوله) (أوافسد غير صوم رمضان أداء) إلى قوله )(قضى) في الصور كلها (فقط) اھ (2/401)۔
وفي الشامية:(قوله أو تسحر أو جامع إلخ) أفاد أن الجماع قد يكون خطأ،وبه صرح في السراج فقال:ولو جامع على ظن أنه بليل ثم علم أنه بعد الفجر فنزع من ساعته فصومه فاسد لأنه مخطئ ولا كفارةعليه لعدم قصد الإفساد اھ(2/401) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0